قصورکی معصوم زینب کے قاتل عمران کا عبرتناک انجام ۔ آج صبع پھانسی دے دی گئی

Zainab Murder case
13

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے)

Hanged to Death

قصور کی ننھی زینب کا قاتل اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ گیا، مجرم عمران علی کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

معصوم   زینب اور دیگر معصوم بچیوں کے قاتل عمران علی کو صبح ساڑھے پانچ بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا، اس دوران کوٹ لکھپت جیل کے پھانسی گھاٹ میں بھرپور انتظامات کیے گئے اور سیکیورٹی بھی سخت تھی۔

ڈاکٹرز کی ٹیم نے درندہ صفت مجرم عمران علی کا پھانسی سے قبل طبی معائنہ بھی کیا تھا۔

مجرم عمران علی کی ورثاء سے آخری ملاقات بھی کرائی گئی تھی، خاندان کے اٹھائیس افراد ڈیتھ سیل میں ملے تھے، مجرم کی لاش میڈیکل آفیسر کی رپورٹ کے ساتھ ورثا کے حوالے کردی جائے گی۔

مجسٹریٹ عادل سرور کی موجودگی میں مجرم  کو پھانسی دی گئی، سزا پر عمل درآمد کے وقت زینب کے والد بھی پھانسی گھاٹ میں موجود تھے، پھانسی کے بعد لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس جیل کے باہر موجود ہے۔

مجرم پر 8 کم سن بچیوں سے زیادتی اور قتل کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔

مجرم عمران  کو آج (بدھ) صبح ساڑھے پانچ بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا، سزا پر عملدرآمد کے وقت کمسن زینب کے والد محمد امین بھی پھانسی گھاٹ پر موجود تھے۔

اس موقع پر کوٹ لکھپت کے باہر سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

بعدازاں مجرم عمران کی لاش ورثا کے حوالے کردی گئی۔

پھانسی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والد نے کہا کہ وہ اپنی آنکھوں سے مجرم کا انجام دیکھ کر آرہے ہیں، آج انصاف کے تقاضے پورے ہوئے، مجرم کو سزا پر مطمئن ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجرم عمران بے خوف و خطر خود چل کر تختہ دار تک آیا، اُس کے چہرے پر زرہ برابر بھی ندامت کے آثار نہیں تھے۔

قبل ازیں کوٹ لکھپت جیل آمد پر زینب کے والد کا کہنا تھا کہ مجرم کو سرعام پھانسی دینی چاہیے تھی، اگر سرعام پھانسی نہیں دینی ہے تو اس قانون کو ہی ختم کردینا چاہئے۔

قصور میں متعدد کم سن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے کئی واقعات رونما ہوئے لیکن مجرم قانون کی گرفت سے باہر تھا،4 جنوری 2018 کو 7سالہ زینب کی لاش ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے اور 19 دن بعد زینب کے گھر کی عقبی گلی کا رہائشی عمران پکڑا گیا۔

عمران نے ابتدائی تفتیش میں ہی اعتراف جرم کر لیا تاہم جب ڈی این اے کرایا گیا تو وہ 8 بچیوں کا قاتل نکلا۔

جواب چھوڑیں