تیری رہبری کا سوال ہے؟

Agha-Waqar-Ahamd-Khan-Pakisatni-Columnist
196

تیری رہبری کا سوال ہے؟

حقوق اشاعتِ(copyright)صرف ہمارے پاس محفوظ ہیں۔اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔

خاورنعیم ہاشمی میڈیاگروپ

مریم نواز نے سرخ لباس زیب تن کر رکھا تھا جو کہ سرخ انقلاب کی نشانی ہے۔ انقلاب تو آ گیا۔ آج پہلی بارنواز شریف ،مریم نوازاور کیپٹن (ر) صفدر نیب کی عدالت میں اکٹھے تشریف لائے اورگزشتہ رات مری کے پرفضا ریزاٹ میں اکٹھے قیام کیا۔

اب دیکھنا ہے کہ نواز شریف جوانقلابی اورنظریاتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا اگلا اقدام کیا ہوگا ؟

میں گزشتہ کالمزمیں تحریرکرچکا ہوں کہ ریاستی سازشیں کیا ہوتی ہیں۔ اقتدارکی جنگ میں خون کے رشتے کوئی معنی نہیں رکھتے اسی سلسلے میں گزشتہ کئی روز سے پاکستان کی سیاست الجھی ہوئی ہے اورقومی اسمبلی کے اسپیکرکا بارباراسمبلی کا اجلاس بلانا جس میں حکومتی پارٹی کے اراکین کا شریک نہ ہونا ایک اہم پیغام ہے جسں سے نوازشریف کو نوشتئہ دیوارپڑھ لینا چاہیے۔ ایک طرف تواسپیکرکی کوشش تھی کہ کسی طرح الیکشن کے سلسلے میں قرارداد پیش کرے جس کی آڑمیں ایک احتساب کمیشن  بھی تشکیل دیا جا سکے جس سے نیب خود بخود ختم ہو جائے اور نواز شریف با آسانی سزا سے بچ جائیں کیونکہ درپردہ تمام سیاسی جماعتیں یہ نہیں چایتیں کہ ان کا احتساب ہواورماضی میں طے شدہ مقدمات دوبارہ کھل جائیں کیونکہ بنیادی طور پرتمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈرصاحبان عوامی خدمت سے زیادہ اپنے مفادات کوعزیزرکھتے ہیں  ۔

مسلم لیگی اراکین کا قومی اسمبلی کے اجلاس میں دانستہ طور پرنہ آنا مبینہ طور پرمسلم لیگ کی اندرون خانہ  سازشوں کا بھی پتہ دیتا ہے کیونکہ حال ہی میں اپوزیشن نے سینیٹ سے ایک قراداد پاس کروائی جس کی رو سے  کوئی نااہل شخص کسی بھی سیاسی پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا اور یہ قراداد قانون کی حیثیت حاصل کرنے کے لیئے  قومی اسمبلی میں پیش ہونا تھی جس اجلاس میں حکومتی اراکین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اس قرارداد نے منظور ہو جانا تھا اوراس طرح  نواز شریف نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیاسی منظر سے غائب ہو جانا تھا مگریہ سازش افشا ہو گئی اوراس سلسلے میں اسپیکر نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات کی  ۔

ملاقات کے فوراََ بعد  جب کہ اپوزیشن پارٹیوں کے تقریباََ تمام اراکین اسمبلی اجلاس کے لئے اسلام آباد پہنچ چکے تھے مگراسپیکر نے ہنگامی بنیادوں پرتا حکم ثانی قومی اسمبلی کا اجلاس برخاست کردیا کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے باغی اراکین کے ارادوں کا علم ہونے کے بعد بھی اگر اجلاس چلتا رہتا تو اپوزیشن سینیٹ سے پاس شدہ بل با آسانی  قومی اسمبلی سے بھی منظورکروا لیتی اوروہ ایک قانون کی شکل اختیارکرجاتا جس سے نواز شریف ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے سیاسی میدان سے باہرہوجاتے اورباغی مسلم لیگی اراکین اپنی مرضی کا نیا وزیراعظم منتخب کروالیتے ۔

مبینہ طور پراس سازش کا سرخیل متعین کرنا ابھی باقی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کے اندرانتشاراوردھڑے بندیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے پارٹی کارکن ذہنی کرب کا شکار ہیں اورانہیں سمجھ نہیں آرہا کہ وہ اندرون خانہ  اختلافات میں کس دھڑے کا ساتھ دیں؟

پارٹی کو بچانا ہے تو اداروں سے اختلافات کی سیاست ختم کرنا ہو گی جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف و  حمزہ شہباز کے علاوہ چوہدری نثار بھی نواز شریف کو بتا چکے ہیں مگرجیسا کہ پہلے کالم میں بھی میں تحریر کر چکا ہوں کہ اس دفعہ لندن سے واپسی پرنواز شریف اور مریم نواز کی باڈی لینگوئج اس امرکی غماز ہے کہ وہ بھر پور طریقے سے اداروں پر اپنے بیانات سے نشتر زنی کرنے کو تیار بیٹھے ہیں جس سے مسلم لیگ کو نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو گا کیونکہ پہلے ہی مریم نواز کی طرزسیاست کی وجہ سے نظرثانی کا مفصل فیصلہ آ چکا ہے جس میں عدلیہ نے وضاحت کے ساتھ عوام  کو نواز شریف اوراس کے خاندان کے جرائم کی تفصیل دے دی ہے اوراس کے ساتھ  یہ بھی وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ یہ خاندان عدلیہ پراثرانداز ہونے کی ناکام کوشش کر رہا ہے عدلیہ پراثرانداز ہونے کی کوشش ہی مافیا کے زمرے میں آتی ہے ۔

آج جب نیب کی عدالت نے تینوں ریفرنسز کواکٹھا  کرنے کے سلسلے میں اپنا تفصیلی فیصلہ سنایا جس کے تحت یہ واضح کردیا کہ تینوں ریفرنسز مختلف نوعیت کے ہیں اور یکجا نہیں کیے جا سکتے لہذا یہ تین الگ الگ مقدمات کی صورت میں سنے جائیں گے ۔

ابھی نواز شریف پر کل رات آنے والے نظرثانی شدہ تفصیلی فیصلے کا صدمہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کو عدالت کی طرف سے ایک اورناکامی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے نواز شریف اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اوران کے چہرے سے خوف کے تاثرات نمایاں ہو گئے بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ نیب عدالت کے جج  نے نواز شریف کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونے کو کہا اورایک ایک کر کے تینوں ریفرنیسز پڑھ کر سنائے جس میں 20 منٹ لگ گئے اوربات یہں پرختم نہ ہوئی بلکہ نواز شریف کے ہاتھ میں تینوں ریفرینسزکی کاپیاں بھی تھما دیں گئیں اس کے بعد جج صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے ان ریفرنسزکوغورسے پڑھا اورسن لیا؟

نواز شریف کے چہرے پر خوف اورپریشانی کے تاثرات نمایاں تھے اورسکت گویائی کھو چکے تھے اورانہوں نے اثبات میں سرہلا کراقرارکیا تو جج صاحب نے انہیں تینوں فرد جرم کی کاپیوں پردستخط کرنے کوکہا جوانہوں نے کانپتے ہاتھوں سے کردیئے ۔

میری حیرت کی انتہا تب نہ رہی جب انہوں نے باہرآ کر فرمایا کہ “ججز بغض سے بھرے پڑے ہیں، بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں آگیا ہے” مگر قارئین میرے مطابق  جج صاحب کی ذات پر یہ حملہ درحقیقت نواز شریف کا  عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

بارہا اپنی تحریروں سے انہیں احساس دلانے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ قوم کو مزید الجھن کی طرف نہ لے جائیں اور سٹیپ ڈاؤن کر جائیں مگرافسوس کہ ان کو عقل کی بات دیر سے سمجھ آتی ہے اور وہ مشورہ دینے والوں کو اپنے مخالفین کی صف میں کھڑا کر دیتے ہیں اور اپنی کم علمی کی وجہ سے اپنے ہی پاؤں پرکلہاڑی مارڈا لتے ہیں جس کی زندہ مثال ان کا  سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی میں جانا تھا ۔

 میاں صاحب کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ؟

تو جناب آپ کو اس لیئے نکالا گیا کہ ملک کے سب سے بڑے منتخب عہدیدار کے جھوٹ پرآنکھیں بند کی جا سکتی ہیں اور نہ ی ہی اس سے صرف نظرکیا جا سکتا ہے، سابق وزیر اعظم نے غلط بیانی کی اورجان بوجھ کرساڑھے چھ سال کی تنخواہ کی رقم، جوان کا اثاثہ تھی، کو کاغذات نامزدگی میں چھپایا ،عدالت کے سوالات کا جواب دینے میں راست بازی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ، موقع ملنے کے باوجود سچ پر مبنی بیان نہیں دیا گیا، بلکہ پارلیمنٹ کے اندراور باہر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی یہاں تک کہ انہوں نےعدالت کو بھی بیوقوف بنانے کی کوشش کی اور یہ احساس تک نہیں کیا کہ سب لوگوں کو تھوڑے وقت کے لئے تو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لئے نہیں۔

ادھر ادھر کی  نا بات  کر یہ  بتا  کہ قا فلہ  کیوں لٹا

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

Columnist1958@gmail.com

ادارہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.