امریکی اسلحہ کی یمن میں عسکریت پسندوں کو مبینہ فراہمی سے متعلق الجزیرہ کا انکشاف

Houthis in Yemen
17

مانیٹئرنگ ڈیسک( 24 گھنٹے)

Yemen Conflict

ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) امریکی ساختہ ہتھیاروں کو مبینہ طور پر یمن میں عسکریت پسندوں کو فراہم کر رہے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب اور یو اے ای مبینہ طور پر امریکی ساختہ ہتھیاروں کو القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپس اور سلفی ملیشیا کو منتقل کررہا ہے، جس کے کمانڈر ایک مرتبہ یمن میں داعش کی برانچ کے لیے کام کرچکے ہیں۔تحقیقات میں بتایا گیا کہ یہ ہتھیار یمن مین حوثی باغیوں کے ہاتھوں میں بھی جانے کا راستہ بن رہے ہیں۔خیال رہے کہ حوثی باغی ملک میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اتحادی فوج کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات فوجی اتحاد کے طور پر 2015 میں یمن جنگ میں داخل ہوئے تھے، جس کا مقصد صدر عبدربہ منصور ہادی کی بین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کی کوشش کرنا تھا۔عبدربہ منصور ہادی کے حمایتیوں اور حوثیوں کے وفاداروں کے درمیان خانہ جنگی کے بعد دونوں خلیجی ریاستوں کی جانب سے عبدربہ منصور کی حکومت کی بحالی چاہی تھی۔

تاہم یہ تحقیقات کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہی ہے، سی این این کے مطابق مقامی کمانڈرز اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اتحادی امریکی ساختہ ان ہتھیاروں کو ‘ملیشیا یا قبائلیوں کی وفاداری کو خریدنے کے لیے بطور کرنسی استعمال کرنے، منتخب کردہ مسلح کرداروں کو تقویت دینے اور پیچیدہ سیاسی منظرنامے پر اثرا انداز ہونے کے لیے’ استعمال کرتے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق خلیجی بادشاہت واشنگٹن کے ساتھ اپنے ہتھیاروں کے معاہدے کی شرائط کو توڑ رہی ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ اس معاملے پر ایک تفتیش جاری ہے

دوسری جانب تعز شہر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی نشریاتی ادارے کا کہنا تھا کہ القاعدہ نے ‘پرو سعودی ملیشیاز کے ساتھ فائدہ اٹھانے کے لیے ایک جعلی اتحاد بنایا تھا’۔تحقیقات میں بتایا گیا کہ ابو العباس بریگیڈ نے امریکا کی تیار کردہ اوشکوش بکتر بند گاڑیاں حاصل کی تھی، جس کا 2015 میں شہر میں طاقت کے طور پر مظاہرہ کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے 2017 میں ملیشیا کے بانی ابو العباس پر مبینہ طور پر القاعدہ اور داعش کے یمنی گروہ کی مالی مدد کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی

جواب چھوڑیں