پاکستان ہمارے دیے گئے ہدف کو حاصل کرے گا ۔ امریکی وزیر خارجہ

Mike Pompeo
10

مانیٹئرنگ ڈیسک(24 گھنٹے)

US Policy

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومیپو نے کہا ہے کہ افغانستان میں سیاسی افہام و تفہیم پر سب تیار ہیں اور ہمیں امید ہے کہ پاکستان ہمارے دیے گئے ہدف کو حاصل کرے گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال پر مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ‘میں نے حال ہی میں اپنے دورے میں پاکستان کے نئے رہنما سے ملاقات کی اور ہم نے واضح کیا تھا کہ جنوبی وسطی ایشیا کے حوالے سے امریکا کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری توقعات یہ ہیں کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ نہیں دے گا، ہم اس سے مزید واضح پیغام نہیں دے سکتے’۔

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اگر پاکستان اس کو پورا نہیں کرتا اور ان کاوشوں کے لیے وہ مخلص نہیں ہوئے تو ان پر ذمہ داری عائد کی جائے گی’۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ‘ہم نہیں مانتے کہ ہر کسی کی خواہش کے مطابق ہم جگہ دے سکتے ہیں، ہر کوئی افغانستان میں مفاہمت چاہتا ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے آپ طالبان، حقانی اور پاکستان کے اندر دیگر کے لیے محفوظ پناہ نہیں دے سکتے’۔

اپنے عزائم کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستانی حکومت ہمارے نقطہ نظر کو سمجھتی ہے اور اس انتظامیہ نے ان ذمہ داری ڈالنے کے لیے خاص کوششیں کی ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ان کے لیے ہم نے جو ہدف طے کیا ہے وہ حاصل کرلیں گے’۔

خیال رہے کہ مائیک پومپیو نے پاکستان میں 25 جولائی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کو فون کیا تھا جس کے حوالے سے ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے عمران خان کو واضح کیا ہے کہ پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ حکومت کی جانب سے اس بیان کی تردید کی گئی تھی۔

امریکا کے قائم مقام ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ ہینری انشیر نے 19 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا، پاکستان پر اس وقت تک دباؤ جاری رکھے گا جب تک اسلام آباد علاقائی امن اور افغانستان میں استحکام سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خیال سچ ہے کہ ہم پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور یہ ہماری پالیسی کا اہم جزو ہے‘۔

خیال رہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ امریکا میں 3 اکتوبر کو واشنگٹن میں سیکریٹری آف اسٹیٹ  کی تھی جہاں دوطرفہ تعلقات پر مذاکرات کا دور بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے ختم ہوگیا تھا تاہم دونوں ممالک نے افغان امن عمل میں طالبان کے شامل ہونے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

جواب چھوڑیں