ترکی نے اسرائیلی سفیر کو ملک سے جانے کا کہہ دیا

rajab tayyab erdogan
34

ترکی (24 گھنٹے)

International

غزہ پٹی پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے معصوم فلسطینیوں کی ہلاکت پر بڑھنے والی کشیدگی کے بعد ترکی اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے سفیروں کو اپنے ملک سے جانے کا کہہ دیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ انقرہ کے لیے اسرائیل کے سفیر ایتان ناہی کو کہا گیا کہ مناسب ہوگا کہ اگر وہ کچھ وقت کے لیے مقبوضہ علاقوں میں واپس لوٹ جائیں۔
اس بیان کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی وزیر برائے خارجہ امور کی جانب سے جوابی بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ یروشلم ( بیت المقدس) میں موجود ترکی کے قونصل جنرل یرجان ترکولو کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ ‘کچھ وقت کو مشاورت کے لیے ترکی واپس چلے جائیں’۔

اس کے جواب میں دوبارہ ترکی حکومت نے استنبول میں اسرائیلی قونصل جنرل یوسی لیوی سفاری کو طلب کیا اور انہیں ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں پر فائرنگ اور شیلنگ سے 62 فلسطینیوں کی اموات پر اور بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ کھولنے پر احتجاج کرتے ہوئے ترکی نے اپنے سفیروں کو تل ابیب اور واشنگٹن سے واپس بلا لیا تھا۔
اس کے علاوہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیوں کا اشارہ بھی دے دیا۔
دوسری جانب فلسطینی انتظامیہ کے سینئرے مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکا میں تعینات فلسطینی مندوب کو واپس بلا لیا۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق صائب عریقات کا کہنا تھا کہ امریکا میں متعین تنظیم آزادی فلسطین کے مندوب حسام زملط کو امریکا کی طرف سے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد واپس بلایا گیا۔
ادھر امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کو سعودی عرب نے بھی مسترد کردیا۔

سعودی گیزیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزراء کونسل کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدام فلسطینیوں کے حقوق کو سلب کرنے کے مترداف ہیں کیونکہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطینی شہریوں کو اپنی سرزمین کا حق ہے۔

کونسل کا کہنا تھا سعودی حکومت کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اس طرح کا غیر منصفانہ فیصلہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے گا۔
علاوہ ازیں سعودی فرماں روا کی جانب سے اسرائیلی فوج کی وحشانیہ فائرنگ اور طاقت کے استعمال سے نہتے فلسطینیوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو فون کیا اور معصوم فلسطینیوں کی اموات پر دکھ کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے زخمی افراد کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

سعودی فرماں روا کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی کے لیے ریاست کی مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس کے علاوہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات یقینی بنانے کے لیے عرب لیگ کے وزراء خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

جواب چھوڑیں