نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے نااہل: فیصلہ پاناما کیس سے بھی بڑا ہے، شیخ رشید

Sheikh_Rasheed_Ahmed
55

اسلام آباد (24 گھنٹے)

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ کے انتخابی اصلاحات 2017 کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے پاناما کیس سے بڑا فیصلہ قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف کو پارٹی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
چیف جسٹس نے نوازشریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 پر نہ اترنے والا شخص پارٹی صدارت نہیں رکھ سکتا کیونکہ پارٹی صدارت کا براہ راست تعلق پارلیمنٹ سے ہے۔

عدالتی فیصلے میں نوازشریف کے بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیا گیا ہے جس کے بعد سابق وزیراعظم کے بطور پارٹی صدر سینیٹ انتخابات کے امیدواروں کی نامزدگی کالعدم ہوگئی اور مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کے ٹکٹ منسوخ ہوگئے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ آج نواز شریف کی سیاست ختم ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ 31 مارچ سے پہلے ہوجائے گا، عدالتی فیصلے سے لودھراں کا الیکشن بھی کالعدم ہوگیا ہے۔

انتخابات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت پر نہیں ہوں گے اپنے مقررہ وقت سے آگے پیچھے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اس معاشرے سے واقف ہیں تاہم اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھٹو بننے جارہے ہیں تو انہیں مبارک ہو۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو چالاکیاں شہباز شریف کرتے ہیں وہ نواز نہیں کرتے، وہ مشرف کو دھوکا دینے میں بھی کامیاب رہے تھے۔

’ایک بار پھر گو نواز گو ہو گیا‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر گو نواز گو ہو گیا ہے۔
بابر اعوان نے کہا کہ دو ہفتے تک مقدمہ لڑا اور وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل نواز شریف نواز لیگ کے لیے بھی نااہل ٹھہرا۔
سابق وزیر قانون نے کہا کہ لودھراں الیکشن بھی غیر قانونی ہو گیا کیونکہ اقبال شاہ کا ٹکٹ بھی نواز شریف نے جاری کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر طے ہو گیا ہے کہ آئین سپریم ہے اور دیانت دار قیادت عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ چور گیا، اب ڈاکو بھی جائے گا۔

’فیصلہ ہر پہلو سے تاریخی ہے‘

ادھر تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج کا فیصلہ ہر پہلو سے تاریخی ہے اور سپریم کورٹ خراج تحسین کی حقدارہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلے سے نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر نااہلی کا سرٹیفکیٹ تھمایا گیا، سپریم کورٹ کےتین رکنی بینچ نےتاریخی فیصلے کے ذریعے اہم اصول طےکیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ بد دیانت اور عدالت سے سزا یافتہ شخص کو پارٹی صدارت پربٹھانا آئین و قانون کے ساتھ مذاق تھا، ن لیگ کو چاہیے کسی شرارت کی منصوبہ بندی کی بجائے فیصلہ قبول کرے۔

جواب چھوڑیں