سپریم کورٹ ۔ جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی

Judge-Arshad-Malik
13

مانیٹئرنگ ڈیسک اسلام آباد (24 گھنٹے )

Judge Video Scandal

سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت اسلام آباد نمبر 2 کے جج محمد ارشد ملک کی مبینہ متنازع ویڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور خان سے اس معاملے پر تجاویز طلب کرلیں

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بینچ وکیل اشتیاق احمد مرزا کی جانب سے اپنے والی چوہدری منیر صادق کے ذریعے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔

ایک موقؑرانگریزی اخبار کی رپورٹ  کے مطابق عدالت عظمیٰ میں معاملے کے حقائق کی مکمل تحقیقات کے لیے مزید 2 درخواستیں دائر کردی گئی ہیں، ان نئی درخواستوں میں سے ایک ایڈووکیٹ سہیل اختر نے اپنے وکیل محمد اکرام چوہدری کے توسط سے دائر کی ہے جبکہ دوسری ایڈووکیٹ طارق اسد سے خود دائر کی ہے۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر درخواست گزار اشتیاق مرزا کے وکیل منیر صادق نے دلائل دیے کہ ویڈیو لیکس اسکینڈل کے ذریعےعدلیہ پر سوالات اٹھائے گئے، یہ عدلیہ کی آزادی اور وقار کے حوالے سے ایک اہم اور حساس معاملہ ہے، لہٰذا عدالت اس معاملے کی تحقیقات کروا کر ذمہ داران کا تعین کرے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ مقدمہ مفاد عامہ کا ہے، مریم نواز نے 6 جولائی کو لاہور میں پریس کانفرنس کی، جس میں کچھ الزامات لگائے گئے، جس میں کہا گیا کہ عدلیہ دباؤ میں کام کر رہی ہے۔

وکیل نے کہا کہ یہ سنگین الزامات ہیں، اس کی انکوائری ہونی چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے کیا ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میں سچ کی تلاش چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور وکلا نے ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کا کہا، لہٰذا ایک کمیشن بنایا جائے، بے شک یہ کمیشن ایک رکنی ہی کیوں نہ ہو۔

وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کمیشن کا سربراہ کون ہو، جس پر وکیل نے کہا کہ جج کمیشن کے سربراہ ہو، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ایسا کلچر بن گیا ہے کہ ایک کے خراب ہونے پر سب کو ایسا سمجھا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ سارے جج ایسے ہیں، سارے سیاستدان ایسے ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ کمیشن کیا دیکھے، اس پر وکیل نے کہا کہ کمیشن سچائی کو دیکھے کہ اگر الزام ثابت ہو تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج نے بیان حلفی کے ذریعے کچھ حقائق بیان کیے، وزیر اعظم عمران خان نے بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ عد لیہ ویڈیو کے معاملے پر نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور امیر جماعت اسلامی نے بھی عدلیہ سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ عدلیہ تحقیقات کرے، اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے بھی یہی مطالبہ دہرایا۔

وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کے کہنے پر کوئی کام کریں گے تو کیا ہم آزاد ہوں گے، ازخود نوٹس کسی کے مطالبے پر لیں تو پھر وہ ازخود نوٹس نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جج کے مس کنڈکٹ (غلطی) کو بھی جاننا ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہاں مداخلت کرنی ہے، عنقریب ہم کچھ چیزیں طے کریں گے۔

بعد ازاں عدالت نے اس معاملے پر اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرتے ہوئے متعلقہ کیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں