سپریم کورٹ ۔ اصغر خان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ

supreme court
11

مانیٹئرنگ ڈیسک( 24 گھنٹے)

Supreme Court

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور سیکریٹری دفاع سے جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے نے کیس کی فائل بند کرنے کی استدعا کی ہے لیکن ہم کیسے عدالتی حکم کو ختم کردیں، اس معاملے کی مزید تحقیقات کروائیں گےچیف جسٹس نے اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجا سے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالت کی معاونت کریں، اس کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے، ایک عدالتی فیصلہ آیا اور اب عملدرآمد کے وقت ایسا ہورہا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کچھ افراد کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی تجویز دی تھی اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نے رقم تقسیم کی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اصغر خان کی کوشش کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان کے اہل خانہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کروالیتے ہی سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب فیصلہ آیا تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودہدری سے ملا اور کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے کہ اب عدالت کچھ نہ کرے تو یہی کافی ہے۔

اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اصغر خان اور آسیہ بی بی کیس کے دونوں فیصلے تاریخ ساز ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’فوج کے ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالت ٹرائل کر رہی ہے جبکہ سول لوگوں کے خلاف الگ ٹرائل ہورہا ہے، الگ الگ تحقیقات سے کیسے حتمی نتیجے تک پہنچیں گے‘۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ کابینہ نے کہا تھا کہ ان کا ٹرائل فوجی عدالت کرے گی، ہمیں نہیں پتہ ملٹری والے کیا کارروائی کر رہے ہیں کیوں نہ ان سے بھی رپورٹ طلب کرلیں، ایسا نہ سمجھیں کہ فوج والے عدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہیں، میں بطور چیف جسٹس ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب ہمارے اختیار میں ہے، کیوں نا سیکریٹری دفاع کو طلب کرلیں‘۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ وہ ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات سے مطمئن نہیں ہیں۔بعد ازاں عدالت نے اصغر خان کے قانونی ورثا کی طرف سے دائر درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کردیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری دفاع بتائیں کہ جن افسران کا معاملہ ان کو بھیجا گیا تھا اس کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں، اس معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کروایا جائے۔

جس کے بعد عدالت نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز اصغر خان کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی انکوائری ختم نہیں ہونی چاہئے۔اہل خانہ کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا کے توسط سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ ’ایف آئی اے کی جانب سے انکوائری ختم کرنے کی سفارش کو مسترد کرتے ہیں، اصغر خان کا خاندان کیس کا حتمی انجام چاہتا ہے‘۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ’کیس کے ٹرائل کے بعد سامنے آنے والا نتیجہ پاکستان کے عوام کے سامنے رکھا جائے‘۔اس سے قبل 31 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے اصغر خان کیس بند کرنے کی سفارش پر درخواست گزار کے قانونی ورثا سے جواب طلب کیا تھا۔

خیال رہے کہ 29 دسمبر کو ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغر خان عمل درآمد کیس کی فائل بند کرنے کی درخواست کی تھی۔اس سے قبل اس کیس میں عدالت کی جانب سے وزارتِ دفاع کو کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

جواب چھوڑیں