کراچی کو تباہ کردیا شہر میں کوئی سڑک سفر کے قابل نہیں، سپریم کورٹ

supreme court
41

کراچی(24گھنٹے)

 

سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ کراچی کو تباہ کردیا گیا شہر میں شارع فیصل سمیت کوئی سڑک سفر کےقابل نہیں۔

 

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی ای سی ایس ایچ سوسائٹی کےنالے پر مارکیٹیں بنانے ، نالےکی صفائی اور حدود کے تعین سے متعلق کے ایم سی کی درخواست کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے کراچی کا اصل ماسٹر پلان پیش نہ کرنے پر عدالت سخت برہمی کا اظہار کیا۔

 

عدالت نے سینٹر ڈائریکٹر ماسٹر پلان محمد سرفراز خان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کراچی کے ساتھ کر کیا رہے ہیں، آپ لوگ کراچی کے ساتھ بےشرمی والی حرکتیں کررہے ہیں، ہم یہاں سے سیدھا جیل بھیج دیتے ہیں۔

 

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا کراچی کو شہر کہلانے کے لائق چھوڑا؟ شہریوں کے لیے سانس لینےکی بھی جگہ نہیں چھوڑی، شہر کو تباہ کر دیا گیا، نالے بند پڑےہیں، اب نالوں پر تجاوزات قائم کرکے شہر کو مکمل ڈبونے کا پلان کیا جارہا ہے، کراچی کو ان اداروں کےحوالے نہیں کرسکتے۔

 

جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کا کام نالوں پر دکانیں بناؤ، مال کماؤ رہ گیا ہے، ذرا سی بارش نے شہر کو ڈبو دیا، مگر سیکھا نہیں، شارع فیصل سمیت کوئی سڑک سفر کرنے کے قابل نہیں، ہر روڈ پر مٹی، گندگی اور گرد ہے۔

 

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 10 فٹ نالہ اور اطراف میں سڑک اب بھی موجود ہے، سینئر ڈائریکٹر پلان نے کہا کہ  نالے کی اصل چوڑائی 35فٹ ہے، مارکیٹیں بنانےکی منظوری ایس بی سی سےنے خلاف قانون دی، مارکیٹیں بنانے کا عمل غیر قانونی ہے۔

 

سپریم کورٹ نے کراچی کا اصل ماسٹر پلان طلب کرتے ہوئے نالے کی اراضی پر قائم ہر قسم کی تجاوزات کا خاتمہ کرنے کا بھی حکم دیا۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.