سینیٹ سے ہیومن ٹریفکنگ کے حوالے سے بل منظور

Chairman senate
36

ویب ڈیسک(24گھنٹے)

Human Trafficking

سینیٹ میں خواتین اور بچوں سمیت ہیومن ٹریفکنگ کو روکنے کے لیے ترمیمی بل کو پیش کرنے کے بعد منظور بھی کرلیا گیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ترمیمی آرڈیننس سینیٹ میں پیش کیا جس میں ہیومن ٹریفکنگ میں ملوث مجرمان کو قید میں اضافے اور جرمانے کے حوالے سے بھی وضاحت کی گئی ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ ‘جو شخص ہیومن ٹریفکنگ میں ملوث پایا جائے اس کی سزا کو 7 سال سے بڑھائی جاسکتی ہیں یا جرمانے کو دس لاکھ تک کیا جاسکتا ہے یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں’۔

قید کے حوالے سے طریقہ کار میں ردوبدل کیا گیا ہے اور اس میں خواتین اور بچوں کے متاثر ہونے کی صورت میں بھی وضاحت کی گئی ہے۔

سینیٹ سے منظور شدہ بل کے مطابق ‘اگر جرم خواتین یا بچے کے خلاف پایا جائے تو مجرم کی قید 10 سال تک بڑھائی جاسکتی ہے اور دو سال سے کم نہیں ہوگی یا جرمانہ 10 لاکھ تک بڑھایا جاسکتا ہے یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں’۔

بل میں کہا گیا ہے کہ ہیومن ٹریفکنگ کے معاملات کو مقامی سطح پر پولیس دیکھے گی لیکن متاثرین کو پاکستان سے باہر لے جانے کی صورت میں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اس کا جائزہ لے گی۔

ہیومن ٹریفکنگ کو ناقابل ضمانت جرم بھی قرار دیا گیا ہے۔

طلال چوہدری نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس وقت کی ضرورت ہے اور یہ بل ہیومن اسمگلنگ سے متعلق بل سے مماثلت رکھتا ہے جس کے لیے حکومت نے اس آرڈیننس میں سزائیں بڑھائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیومن ٹریفکنگ اور اسمگلنگ کا نشانہ زیادہ سے زیادہ ہم ہی بنتے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے سوال کیا کہ بین الاقوامی طور پر اس بل سے متعلق حکومت پر کیا دباو ہے اور آپ دباو میں یہ بل منظور کرنے پر مجبور کیوں ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دو ہفتوں سے سینیٹ کا اجلاس جاری ہے آخری دن پر ہی آرڈیننس کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طور پر پاکستان پر اس حوالے سے انگلیاں اٹھ رہی تھیں جس کے باعث اس بل کو پیش کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں