ثالث کی تلاش

Agha-Waqar-Ahamd-Khan-Pakisatni-Columnist
175

ثالث کی تلاش

حقوق اشاعتِ(copyright)صرف ہمارے پاس محفوظ ہیں۔اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔

خاورنعیم ہاشمی میڈیاگروپ

نواز شریف اور ان کے حواریوں نے اپنی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا جس سے سلطنت کے اداروں کو سرنگوں کرنے کا تاثر دیتے ہوئے راولپنڈی ائیر پورٹ سے پنجاب ہاؤس اسلام آباد کی طرف تمام ترحکومتی مشنری کے ساتھ روانہ ہوئے اور اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے نیب کے اراکین کو ائیر پورٹ پر ضمانتی مچلکے جمع کروانے سے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ پنجاب ہاؤس آؤ یہ مچلکے پنجاب ہاؤس میں جمع کروائے جائیں گے اور یہ مچلکے وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری دیں گے۔

عدلیہ سے یہ مذاق صرف پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے سزا یافتہ مجرم ایک ریاستی مہمان کی حیثیت سے پنجاب ہاؤس میں پنجاب ہاؤس میں قیام کرے اور اس مجرم کے ضمانتی مچلکے بھی ایک وزیر مملکت ہی جمع کروائے یہ ریاستی مشنری کی ناکامی کی علامت ہے۔

کچھ دن قبل برطانیہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور نواز شریف کے ساتھ ساتھ  وزیر اعظم پاکستان  شاہد خاقان عباسی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کی تشہیر حکومتی ٹیلی وژن کے علاوہ ان ٹیلی وژنز پر بھی کی گئی جن کی ہمدردیاں حکومتی سیاسی جماعت سے وابسطہ ہیں جس سے یہ تاثر ملا کہ  مسلم لیگ (ن) کے اندرونی اختلافات کا حل نکل آیا ہے اور نواز و شہباز شریف نے اپنے اپنے سیاسی جانشین مقرر کر دئیے ہیں جو کہ مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک خوش آئند بات تھی۔

مگر اس حقیقت کا بھانڈہ نواز شریف کے پاکستان پہنچتے ہی پھوٹ گیا اور نواز شریف نے مریم نواز کے ساتھ مل کر ایک بھر پور جارحانہ انداز میں سیاسی ماحول کو گرما دیا جبکہ شہباز شریف کے ساتھ ساتھ چوہدری نثار بھی  اداروں کے ساتھ نہ الجھنے کا مشورہ دے رہے تھے مگر نواز شریف نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ خود اور مریم نواز کے حواریوں کے ساتھ مل کر ریاستی اداروں پر بھر پور وار کریںگے حالانکہ یہ عمل ان کی ذات کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے لئے زہر سے کم نہ ہو گا۔

نواز شریف کا یہ رویہ مجرم ہونے کے باوجود بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں  کی بے بسی کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں۔

آج عمران خان کے الفاظ میرے ذہن میں گونج  رہے ہیں کہ نواز ، زرداری در حقیقت ایک سکے کے دو رُخ  ہیں کیونکہ ایک طرف تو  نواز شریف نے آصف علی زرداری پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی اور دوسرے ہی لمحے خفیہ معاہدہ کرنے کے لئے مفتاح اسمٰعیل اور شاہد خاقان عباسی کو برطانیہ بھیجا تا کہ  وہ برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان پیپلز پارٹی کے گاڈ فادر سے مدد لینے کے لئے معاہدہ سر انجام دیں جبکہ مبینہ طور پر آصف علی زرداری کا مطالبہ تھا کہ نواز شریف معاہدہ کر کے منحرف ہو جانے والوں میں سے ہیں اس لئے ایک ایسا ضامن ہو جو اس کو  پابند رکھ سکے ۔

پا کستان پیپلز پارٹی نے شیریں رحمان اور قمر الزمان  قائرہ کو  فوری طور پر برطانیہ روانہ کر دیا ہے اور حسن اتفاق دیکھئے کہ شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل ، شیریں رحمان اور قمر الزمان قائرہ ایک ہی جہاز میں بیٹھ کر برطانیہ کے لئے روانہ ہوئے جبکہ آصف علی زرداری دبئی سے برطانیہ کے لئے  رخت سفر باندھ چکے ہیں۔

سیاست دانوں کے چہروں کا یہ رُخ انتہائی بھیانک ہے اور دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کے لئے شرمناک  ہونے کے ساتھ ان کی اُمنگوں کا قاتل ہے۔

مستقبل قریب میں عوام دوبارہ ” نواز ، زرداری بھائی بھائی” کی آوازیں سنیں گے۔ میاں محمد شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے ہاتھوں سے نکلتی ہوئی سیاسی میراث کارکنوں کے لئے کسی صدمے سے کم نہ ہو گی۔

نواز شریف کی ذات کو بچاتے بچاتے مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کی سیاست  اور کارکنوں کی امیدوں کا قتل کر دیا۔

میں بیٹھا میرؔ کا ایک شعر گنگنا رہا ہوں  جو اس وقت پاکستان کے تمام قلم کاروں کی ذہنی کیفیت کی ترجمانی کرتا ہے شائد ان سیاسی کارکنوں کی سوچوں کی بھی ترجمانی کرتا ہو۔

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم میرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

Columnist1958@gmail.com

ادارہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.