سپریم کورٹ ۔جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق نظر ثانی کی درخواست مسترد

Jahangir Tareen
11

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے)

Disqualification

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی برقرار رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی اہلیت کے خلاف فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست خارج کردی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی سپریم کورٹ کے بینچ نے مسلم لیگ نون کے رہنما حنیف عباسی اور جہانگیر ترین کی نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ سے حنیف عباسی نے عمران خان کی اہلیت سے متعلق فیصلے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست جبکہ جہانگیر ترین نے اپنی نااہلی کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی تھی۔

سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کردی جس کے بعد وہ پارلیمانی سیاست سے باہر ہوگئے اور کوئی بھی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے۔

عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے ایک موقع پر جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند ایڈووکیٹ جذباتی ہوگئے اور انہوں نے تیز آواز میں بات کی جس پر عدالت نے وکیل کی سرزنش کی اور کہا کہ اپنی آواز نیچے رکھیں ، چیخیں مت، عدالت کے احترام کو مدنظر رکھیں جس پر سکندر بشیر مہمند نے کہا کہ معافی چاہتا ہوں مجھے اونچا بولنے کی عادت ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل کو کہا کہ ہم کیس کی دوبارہ سماعت نہیں کر رہے ،اس وقت آپ سے پوچھتے رہے لیکن آپ نے ٹرسٹ ڈیڈ بھی بہت آخر میں دی، اب لیڈر پیسہ ملک میں لائیں، باہر سے پیسہ ملک میں لایا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مؤکل اتنے بڑے لیڈر ہیں کبھی انہوں نے سوچا کہ یہ پیسہ ملک میں واپس آنا چاہیے، جب فیصلہ پڑھ رہا تھا کہ آپ نے کمپنی اور شیئر بھی خریدے، کوئی عوامی عہدے دار ایسی مشکوک ٹرانزیکشن کیسے کر سکتا ہے؟

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ن لیگی رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر 15 دسمبر 2017 ءکو فیصلہ سنایا تھا جس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا تھا۔

آج حنیف عباسی کے عمران خان کی اہلیت سے متعلق فیصلے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اکرم شیخ ایڈووکیٹ سے پوچھا کہ آپ کن گراؤنڈز پر چاہتے ہیں کہ فل کورٹ بیٹھے؟

اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نااہلیت کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہ کوئی ’اسٹرکٹ لائبیلیٹی‘ کا کیس نہیں، جبکہ پاناما بنچ نے اسی نوعیت کے کیس میں نواز شریف کو ناہل قرار دے دیا تھا۔

اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ شیخ رشید نااہلیت کیس میں بینچ کے رکن نے کہا تھا کہ جو سوالات ہیں ان کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ ‘کیا آپ اقلیتی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں۔

اکرم شیخ نے کہا کہ معزز جج نے کوئی اختلافی فیصلہ نہیں دیا تھا بلکہ اہم نکات اٹھائے تھے اور باقی دو ججز نے بھی جسٹس فائز عیسیٰ کی رائے سے اختلاف نہیں کیا تھا، دیگر ججز نے قرار دیا تھا کہ الیکشن سر پر ہے اس لیے فوری یہ معاملہ نہیں دیکھا جا سکتا، اخبارات اس حوالے سے اداریہ بھی لکھ چکے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم اخبارات کے کہنے پر ایکشن نہیں لے سکتے۔

اکرم شیخ کے دلائل کے دوران فاضل ججز نے مشاورت کی جس کے بعد نااہلیت کے کیسز کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست خارج کر دی۔

اس موقع پر وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ میزان عدل مختلف لوگوں کے لیے مختلف نہیں ہو سکتا، جناب چیف جسٹس آپ نے اہم معاملات پر پہلے بھی بڑے بینچ بنائے ہیں، درخواست بے شک خارج کر دیتے لیکن آپ میرے دلائل تو سن لیتے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جواب دیا کہ اکرم شیخ کو کہا تھا کہ آپ کے دلائل سن کر ہی فیصلہ دیا ہے۔

جواب چھوڑیں