سپریم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی

Nawaz Sheief
12

مانیئٹرنگ ڈیسک اسلام آباد (24 گھنٹے )

SC Rejects

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی درخواست مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی سزا معطلی اور ضمانت میں توسیع کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ 6 ہفتے علاج کے لیے دیے تھے، ٹیسٹ کروانے کے لیے نہیں، 6 ہفتوں میں آپ نے صرف ٹیسٹ ہی کروائے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ نے انجیو گرافی لازمی قرار دی تھی، اسی وجہ سے ہم نے ضمانت دی تھی، اب آپ کہتے ہیں کہ ملک میں علاج ممکن نہیں جس کے بعد آپ اپنی ہی پہلی درخواست سے باہر چلے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جن ڈاکٹرز کی رائے آپ بتا رہے ہیں انہوں نے حتمی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ نے انجیو گرافی لازمی قرار دی تھی، اسی وجہ سے ہم نے ضمانت دی تھی، اب آپ کہتے ہیں کہ ملک میں علاج ممکن نہیں جس کے بعد آپ اپنی ہی پہلی درخواست سے باہر چلے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جن ڈاکٹرز کی رائے آپ بتا رہے ہیں انہوں نے

حتمی بات نہیں کی

عدالت میں دلائل دیتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ دنیا میں انجیو گرافی کے متبادل کارڈیک ایم آر آئی کی جاتی ہے،جو پاکستان میں ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو ابھی بھی گردوں کی بیماری ہے، انہیں ڈپریشن کا مسئلہ بھی ہے، شریف میڈیکل سٹی اسپتال کی رپورٹ میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کا مشورہ دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ضمانت پر جانے سے نواز شریف کونقصان ہوگیا نا، میاں نوازشریف کو وہی بیماری لاحق ہو گئی، جس سے ان کے والد کی موت ہوئی تھی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ہم پر کوئی آئینی ذمےداری نہیں کہ ہم آپ کے مؤکل کو ریمیڈی کا مشورہ دیں۔

جواب چھوڑیں