سعودی ولی عہد نےخاشقجی کیخلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔ نیویارک ٹائمز

Jamal Khashoggi
11

مانیٹئرنگ ڈیسک( 24 گھنٹے)

Khasoggi

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے حوالے سے اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ استنبول میں قائم قونصل خانے میں قتل سے ایک برس قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی قانون سازوں نے اس نئے انکشاف کے بعد جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سمجھتی ہے کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی ولی عہد جمال خاشقجی کے قتل کے لیے تیار تھے، ہوسکتا ہے کہ ان کا مطلب صحافی کو قتل کرنا نہ ہو۔دی ٹائمز کے مطابق یہ بات امریکا کی قومی سیکیورٹی ایجنسی اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے معمول کی کارروائی کے دوران اتحادیوں سمیت عالمی رہنماؤں کی بات چیت سننے اور جمع کرنے کے تحت ریکارڈ کی گئی تھی۔

اس بات چیت کو حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کےملوث ہونے سے متعلق ٹھوس شواہد کی تلاش کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔اخبار کے مطابق یہ بات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے ماتحت ترکی الدخیل کے درمیان ستمبر 2017 میں جمال خاشقجی کے قتل سے 13 ماہ قبل ہوئی تھی

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر جمال خاشقجی سعودی عرب واپس نہیں آتے تو انہیں طاقت کے زور پر واپس لایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی طریقہ کام نہیں کرتا تو پھر ہم ان کے خلاف ہتھیار کا استعمال کریں گے۔یہ بات چیت اس وقت کی گئی تھی جب سعودی حکام جمال خاشقجی کی جانب سے کی گئی تنقید پر کافی برہم تھے اور اسی ماہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم نگاری کا آغاز کیا تھا۔جمال خاشقجی کی گمشدگی سے متعلق خبروں کو ابتدائی طور پر مسترد کرنے کے بعد سعودی عرب نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ قونصل خانے میں موجود ایک ٹیم نے صحافی کو قتل کیا تھا لیکن اس میں ولی عہد شامل نہیں تھے۔

جواب چھوڑیں