پی ٹی آئی سے اتحاد ’سیکولر فورسز‘ کی کامیابی کا راستہ روکے گا، سمیع الحق

PTI
33

 

پشاور(24گھنٹے)

 

 جمعیت علماء اسلام (س) کی مجلس شوریٰ نے آئندہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے ساتھ ممکنہ سیاسی اتحاد کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مل کر انتخابی محاذ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

ایم ایم اے مذہبی جماعتوں کا دفاعی اتحاد ہے جس کی موثر بحالی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ پارٹی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے متفقہ طور پر ایم ایم اے میں شمولیت کو مسترد کیا اور اجلاس میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد پر بھرپور اتفاق کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (س) اور پی ٹی آئی کا سیاسی اتحاد آئندہ برس عام انتخابات میں ‘لبرل اور سیکولر طاقتوں’ کی کامیابی کا راستہ روکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں عام انتخابات میں کامیابی کے ذریعے لبرل اور سیکولرگروہوں کو لانا چاہتی ہیں۔

مولانا سمیع نے واضح کیا کہ ‘دنوں پارٹیوں کا اتحاد ملک میں اسلامی نظام کی ترویج کے لیے راستہ ہموار کرے گا’، انہوں نے اسلامی نطریات اور پاکستان کی شناخت کے تحفظ کے لیے مذہبی جماعتوں پر تعاون بڑھانے کے لیے زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عام انتخابات لڑنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم سے تمام مذہبی گروہوں میں اتحاد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا’.

جے یو آئی (س) کے سربراہ نے واضح کیا کہ ‘میرے اور عمران خان کے مابین ایک گہری ذہنی ہم آہنگی ہے اور عمران نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا ہے’.

مولانا سمیع نے مزید کہا کہ سیاسی اتحاد کے بعد پی ٹی آئی علماء کا احترام کرتے ہوئے اپنا ‘کلچر اور روایات’ چھوڑ دے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی مرکزی کمیٹی نے بھی جمعیت علماء اسلام (س) کے ساتھ سیاسی اتحاد کی تصدیق کی ہے۔

جے یو آئی (س) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے سیاسی اتحاد میں دیگر مذہبی جماعتوں کو آمادہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

جمعیت علماء اسلام (س) کی مجلس شوریٰ نے ایم ایم اے کے ساتھ شمولیت کا اس وقت انکار کیا جب دیگر چھ مذہبی جماعتیں رواں مہینے 13 دسمبر کو کراچی میں باقاعدہ سیاسی اتحاد کا اعلان کرنے والی تھیں۔

جمعیت علماء اسلام (ف)، جماعت اسلامی (جے آئی)، تحریک اسلامی، جمعیت علماء پاکستان (نورانی)، جمعیت الحدیث (ساجد میر) کے رہنماؤں نے لاہور میں ملاقات کی تھی اور ایم ایم اے کی بحالی پر اتفاق کا کیا تھا۔

مولانا سمیع الحق نے لاہور میں اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے اسلام آباد اور اکٹورہ خٹک میں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.