قصور۔ 3 لاپتا بچوں کی مسخ شدہ لاشیں جھاڑیوں سے برآمد ۔ شہریوں کا احتجاج ۔ تھانے پرحملہ

Kasur Kids
8

مانیٹئرنگ ڈیسک قصور : ( 24 گھنٹے )

Remains of Minors

صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں چونیاں بائی پاس کے قریب تین لاپتا بچوں کی مسخ لاشیں اور انسانی اعضا  جھاڑیوں سے برآمد ہوئے ہیں.پتوکی میں تین بچوں کی لاشیں ملی ہیں،  ایک بچےکی لاش مکمل حالت میں، جبکہ دوبچوں کے سر اور ہڈیاں برآمد ہوئیں۔

قتل ہونے والا آٹھ سال کا فیضان پیرکو لاپتا ہوا تھا، سلیمان دس اگست اور  علی حسنین ایک ماہ سےلاپتا تھے، علاقہ مکینوں کے مطابق بچوں کے لاپتا ہونے کا سلسلہ دو  ماہ سے جاری ہے، مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

چونیاں میں اڑھائی ماہ میں لا پتہ ہونے والے بچوں کا معمہ حل ہو گیا، کل شام میں 8 سالہ فیضان کے لاپتہ ہونے کےبعد پولیس انتظامیہ حرکت میں آگئی۔ ڈی پی او عبد الغفار قیصرانی کی ہدایت پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور سرچ اپریشن شروع کردیا تھا جو ساری رات جاری رہا۔

پولیس ذرائع کے مطابق 8 سالہ فیضان کے بعد مزید دو لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے،9 سالہ علی حسنین اور 8 سالہ سلمان اکرم دو ماہ قبل اغواء ہوئے تھے۔

Kasur Protest
Kasur Protest

نجی چینل کے مطابق  بچوں کے ورثاء نے زبردست احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی اور ٹائر لگا کر احتجاج کیا، احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ مظاہرین نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فوری نوٹس لے لیا اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے- وزیراعلیٰ نے بچوں کے قتل کے واقعہ میں ملوث ملزمان کا جلد سراغ لگا نے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے- مقتول بچوں کے خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات میں مماثلت پائی گئی ہے، تفتیش جاری ہے، انویسٹی گیشن کے لئے خصوصی ٹیم چونیاں روانہ کردی ہے، جب کہ پنجاب فرانزک کی ٹیموں نے موقع سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

جواب چھوڑیں