پی ٹی آئی کی 23 سالہ جدوجہد کو سمجنے کی ضرورت ہے ۔ وزیرِ اعظم عمران خان

Imran Khan
8

مانیئٹرنگ ڈیسک اسلام آباد (24 گھنٹے )

23rd ٖFoundation Day

پاکستان تحریک انصاف کے 23 ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں آج کنونشن سینٹر اسلام آباد میں تقریب منعقد کی گئی، تقریب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پرچی میں لکھ کر پارٹی نہیں ملی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ھنے پی ٹی آئی کی 23 سالہ جدوجہد کو سمجنے کی ضرورت ہے، اگر اس جدوجہد کو آپ سمجھ گئے تو پھر ہمیں منزل نظر آ جائے گی، اس جدوجہد میں اچھے اور برے وقت آتے ہیں، کچھ لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں پھر واپس بھی آ جاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا ’میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، سیف اللہ نیازی کا تقریب کے انعقاد پر شکریہ، سینیٹر فیصل جاوید کا دستاویزی فلم بنانے پر، گورنر سندھ عمران اسماعیل کا گانا بنانے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی شارٹ کٹ لے کر نہیں آئی جدوجہد کر کے آگے پہنچی، پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو ملک کو بحران سے نکالے گی، ہمیں پرچی میں لکھ کر پارٹی نہیں ملی، ہمیں جب حکومت ملی تو پاکستان کا قرضہ 30 ہزار ارب تھا، 2 جماعتیں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ہزار ارب تک لے گئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک اس وقت مشکل ہے، ہمیں ورثے میں تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر کا ملا، ن لیگ کے پہلے 8 ماہ میں مہنگائی 8 فی صد تھی، پی ٹی آئی کے 8 ماہ میں مہنگائی 6.8 فی صد تھی، پنجاب میں کہا گیا شہباز شریف سے زبردست وزیر اعلیٰ نہیں آیا، وہ گئے تو پنجاب کا خسارہ 1100 ارب روپے تھا جب کہ پرویز خٹک گئے تو کے پی میں 40 ارب روپے کا سر پلس چھوڑ کر گئے۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اور زرداری کو یقین تھا کہ ان کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی، ان کی بد قسمتی ہے کہ عوام نے پی ٹی آئی کو جتوا دیا، اب زرداری نواز اور کرپٹ لوگ نہیں بچ سکیں گے، ان کی کوشش ہے حکومت گرا دیں، کارکن تیار ہو جائیں یہ جمہوریت کے نام پر اکٹھے ہوں گے، اسمبلی میں شور شرابے کا مقصد در حقیقت این آر او لینا ہے، مشرف نے اپنی کرسی کے لیے انھیں این آر او دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے 23 سال بتاتے ہیں کہ جدوجہد کیسے ہوتی ہے، مجھے سیاست میں آنے سے پہلے ہی نام، دولت، عزت سب کچھ مل گیا تھا، اس لیے سیاست میں آنے کا مقصد نام، دولت یا عزت نہیں، چاہتا تو کرکٹ پر بات کر کے ہی پیسا کما سکتا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکمران جب چوری کرتا ہے تو ملک اور نظام دونوں تباہ کر دیتا ہے، ملائیشیا میں مہاتیر محمد آیا تو اس نے ملک کو ترقی دی، کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ ملائیشیا پاکستان سے آگے بڑھ جائے گا، عزت کم ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانوں نے اپنے لیے سوچنا شروع کیا۔

جواب چھوڑیں