بھارت سے مذید مذکرات کا فائدہ نہیں ۔ وزیر اعظم کا امریکی اخبار کو انٹرویو

Imran Khan
3

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے )

No Dialogue

وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا، بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت سے مزید بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے، پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقت ہیں اور دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں۔

وزیراعظم کا کہناتھا کہ خدشہ ہے کہ یہ کشیدگی اور بڑھےگی اور دوایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ تناؤ دنیا کے لیے بھی باعث فکر ہونا چاہیے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اس وقت نئی دہلی میں جو حکومت ہے وہ جرمنی کے نازیوں جیسی ہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے، دنیا کو اس صورتحال سے خبردار رہنا چاہیے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں نسل کشی ہونے والی ہے۔

انٹرویو میں وزیراعظم نے باور کروایا کہ اپنے دورہ امریکا کے دوران انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطے کی انتہائی تباہ کن صورتحال کے خدشے سے آگاہ کردیا۔

بھارت کی ہٹ دھرمی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت نے میری باتوں کو محض اطمینان کے لیے لیا، پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کرسکتا۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدام، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں نسل کشی کر سکتا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے اپنے مبصر مقبوضہ کشمیر بھیجے۔

جواب چھوڑیں