سندھ سے دو ہندو لڑکیوں کا مبینہ اغوا ۔ وزیراعظم کا نوٹس ۔ فوری تحقیقات کا حکم

Imran Khan
20

مانیئٹرنگ ڈیسک (24 گھنٹے )

Hindu Girls

وزیر اعظم عمران خان نے سندھ سے دو ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور ان کی رحیم یار خان منتقلی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لڑکیوں کے بھائی اور والد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیر گردش کر رہی تھیں جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ان کی دو بیٹیوں کو اغوا کر کے ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب دونوں لڑکیوں کی ویڈیوز بھی زیر گردش کر رہی ہیں جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔

وکیل اور سماجی رہنما جبران ناصر نے ٹوئٹر پر اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے ویڈیو شیئر کی اور بتایا کہ لڑکیوں کی عمریں 14 اور 16سال ہیں۔

ایک ویڈیو میں ایک قاضی کو لڑکیوں اور ان دو افراد کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن سے ان کی شادی ہوئی۔


قاضی نے کہا کہ لڑکیاں اسلام سے متاثر ہوئیں اور الزام عائد کیا کہ لڑکیوں کے والدین غلط پروپیگنڈا کر کے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

<

>جبران ناصر نے کہا کہ ان بہنوں کا مذہب درگاہ برچنڈی شریف میں تبدیل کرایا گیا، درگاہ کے مطابق لڑکیاں مذہب تبدیل کرنا چاہتی تھیں کیونکہ وہ اسلام کی تعلیمات سے متاثر تھیں لیکن مذہب کی تبدیلی کے بعد پہلا عمل ان کی کم عمری میں شادی ہے۔>

رپورٹس کے مطابق ان لڑکیوں کو مبینہ طور پر رحیم یار خان منتقل کردیا گیا ہے۔

<

>گزشتہ رات وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت نے گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے اغوا کے بعد مذہب کی جبری تبدیلی اور کم عمری میں شادی کا نوٹس لے لیا۔>

https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1109685510493126657

انہوں نے آج صبح اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو واقعے کی فوری تحقیقات اور بچیوں کی بازیابی کا حکم دیا ہے

جواب چھوڑیں