حویلیاں طیارہ حادثے کی رپورٹ اپریل 2018 میں جاری کی جائے گی

pk 661 final investigation report
39

 

کراچی(24گھنٹے)

 

پی آئی اے کے حویلیاں میں تباہ ہونے والے اے ٹی ار طیارے کے حادثے کی وجوہات کی حتمی رپورٹ اپریل 2018میں جاری کی جائے گی‘ گزشتہ سال آج ہی کے دن پیش آنے والے اس سانحے میں جنید جمشید سمیت47 مسافر عدم کی راہ پر سدھار گئے تھے۔

سن 7 دسمبر دوہزار سولہ کو جنید جمشید قومی ائیرلائن پی کے 661 کی پرواز کے ذریعے چترال سے واپس آرہے تھے کہ حویلیاں کے مقام پر طیارے کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں معروف مبلغ سمیت تمام ہی 47 مسافر شہید ہوگئے تھے، جہاز پھٹنے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت کا عمل ڈین این اے کے ذریعے کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال ہونے والے اس طیارہ حادثے کی تحقیقات پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ نے کی تھی‘ اس کے علاوہ مزید تین کمپنیاں سانحے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔

ان کمپنیوں میں طیارے کا پنکھا بنانے والی کمپنی ‘ یوٹاز‘ طیارے کی باڈی بنانے والی اے ٹی آر کمپنی اور طیارے کا انجن بنانے والی کینیڈین کمپنی پریٹ اینڈ بٹنی بھی اپنے طور پر تحقیقات کررہی ہیں۔

مذکورہ بالا میں سے دو کمپنیوں کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں جبکہ تیسری کمپنی اپنی تحقیقاتی رپورٹ مارچ 2018 تک مکمل کرے گی جس کے بعد تینوں کمپنیوں کی تحقیقاتی رپورٹ اور ایس آئی بی کی رپورٹ کا تقابلی جائزہ لے کر اس سانحے کی حتمی رپورٹ اپریل 2018 میں جاری کی جائے گی۔

طیارے کے بلیک باکس پر کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دوران پروازاے ٹی آر طیارے کا ایک انجن اچانک بند ہوگیا تھا۔ انجن بند ہونے کی اطلاع کپتان نے فوری طور پرکنٹرول ٹاور کو دی تھی، کپتان مے ڈے، مے ڈے کی کال کرتا رہا لیکن کچھ ہی دیر بعد طیارہ زمیں بوس ہوگیا۔

فلائٹ ڈیٹاریکارڈ کے مطابق چار ہزارفٹ کی بلندی پر طیارے نے توازن کھو دیا تھا، پروازپی کے 661 طیارے کے پروپلر کا حب فری ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے جہاز کنٹرول سے باہرہوا، پنکھے فری ہونے کی وجہ سے طیارے کنٹرول نہ ہوسکا، جس کی وجہ سے کپتان کو مہلت ہی نہ ملی کہ وہ طیارے کو کسی جگہ پراتارسکے۔

 

 

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.