پاک-افغان تعلقات کی بحالی پر دونوں ممالک کے حکام رضامند

Pak-Afghan Relations
45

اسلام آباد(24گھنٹے)

Pak-Afghan Relations

افغانستان، پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی (اے پی اے پی پی ایس) کے اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے سینئر حکام نے دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے نئے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

افغان ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ (ر) جنرل ناصر خان جنجوعہ نے اجلاس کے دوران اے پی اے پی پی ایس کی کامیابی کے لیے کوششوں، نئی شروعات، دونوں ممالک کے درمیان خلا کو ختم کرنا، مشترکہ مفادات میں باہمی تعاون کے لیے میکانزم کی تیاری اور دونوں ممالک میں بھروسے کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔

اے پی اے پی پی ایس افغان ڈپٹی وزیر خارجہ اور پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی اسلام آباد میں ملاقات کے بعد بحال ہوگئی ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور صدر اشرف غنی نے گزشتہ ماہ اس نئے میکانزم پر کام کرنے کے لیے زور دیا تھا اور وزراء خارجہ اور قومی سلامتی افسران کو معاملات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔

اے پی اے پی پی ایس میں 6 ورکنگ گروہ موجود ہوں گے جن میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس بھی شامل ہیں۔

اس نئے فریم ورک کا انحصار 7 اصولوں پر ہے جن میں پاکستان کا افغانستان کی سربراہی میں افغان امن اور مصالحت کا عمل ہے، دونوں ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف اقدامات، دونوں ممالک کی سر زمین کو کسی بھی گروہ یا تنظیم کی جانب سے دوسرے ممالک میں حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا، ساتھی ملک میں غیر ریاستی سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد کرنا، مشترکہ نگرانی، اقدامات پر عمل در آمد کے لیے افسران کا رابطہ، زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرنا اور عوامی سطح پر الزام تراشی کو ختم کرنا شامل ہے۔

جنرل (ر) جنجوعہ نے کرزئی کو بتایا کہ اے پی اے پی پی ایس دونوں اطراف کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

حکمت کرزئی نے بھی اے پی اے پی پی ایس کے ذریعے مشترکہ تعاون کو مستحکم کرنے اور تعلقات میں خلا کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنے سے متعلق اظہار خیال کیا۔

جنرل (ر) جنجوعہ اور کرزئی نے دونوں ممالک میں سیاست کو معاشی تعاون سے علیحدہ کرنے کی حمایت کی۔

جواب چھوڑیں