عمان نے اسرائیل کو قابل تسلیم قرار دے دیا

Oman FM
8

مانیٹئرنگ ڈیسک(24 گھنٹے)

Time to Accept

عمان نے اسرائیلی وزیراعظم کے خفیہ دورے کے ایک روز بعد اسرائیل کو خطے کی ایک ریاست کے طور پر قابل تسلیم قرار دے دیا جبکہ امریکا نے کہا ہے کہ وہ خطے کے امن کے لیے مدد کرسکتا ہے۔

عمان کے خارجہ امور کے وزیر یوسف بن علاوی بن عبداللہ نے بحرین میں ایک سیکیورٹی کی سربراہی اجلاس میں کہنا تھا کہ عمان اسرائیل اور فلسطین کے اتحاد کے حوالے سے خیالات میں مدد کی پیش کش کرتا ہے لیکن یہ کردار بحیثیت ثالث کے طور پر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیل خطے میں موجود ایک ریاست ہے اور ہم اس کو سمجھتےہیں

یوسف بن علاوی نے کہا کہ ‘دنیا بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے، ہوسکتا ہے کہ اسرائیل سے بھی دیگر ریاستوں کی طرح پیش آنے اور اسی طرح کا برتاؤ کرنے کا وقت آگیا ہے

عمان نے کہا ہے کہ انہیں اسرائیل بطور ایک مشرق وسطیٰ کی ریاست قابل قبول ہے، عمان کی جانب سے یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دورہ عمان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

واشنگٹن ہے کہ اس اقدام سے علاقائی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو فائدہ ہوگا۔ عمان کے وزیرخارجہ بن علوی نے بحرین میں عرب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمان، اسرائیل اور فلسطین کو قریب لانے کیلئے تجاویز دے رہا ہے

  وہ اس معاملے پر ثالث نہیں ہے۔ عمانی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خطے میں ایک اور ریاست بھی موجود ہے اور ہم سب اس بات کو بخوبی جانتے ہیں۔

 پوری دنیا اس حقیقت سے باخبر ہے۔ بن علوی کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ کام فی الوقت بہت آسان ہے اور یہ کوئی پھولوں کی سیج ہے لیکن ہماری اولین ترجیح تنازع کو ختم کرنا اور ایک نئی دنیا کی طرف جانا ہے۔

 کانفرنس کے موقع پر بحرین کے وزیرخارجہ خالد بن احمد الخلیفہ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لئے عمان کی کوششوں کی حمایت کی

جبکہ سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ امن عمل ہی اسرائیل کیساتھ تعلقات بحال کرنے کی کنجی ہے۔

 واضح رہے کہ مناما میں ہونے والی تین روزہ عرب کانفرنس میں سعودی عرب اور بحرین نے بھی شرکت کی جبکہ ان کیساتھ ساتھ امریکی وزیردفاع جم میٹس کے علاوہ ان کے اطالوی اور جرمن ہم منصب بھی شریک تھے جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بحیرہ مردار میں سیلاب کے باعث 21 افراد کی ہلاکت کے بعد کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ آخری مرحلے میں منسوخ کردیا تھا۔

جواب چھوڑیں