نواز شریف اپنے بیانات سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟

nawaz shrief
41

)خصوصی رپورٹ (24 گھنٹۓ

Nawaz Statement

 ممبئی حملے کے حوالے سے نواز شریف کے حالیہ بیان کے بعد ان پر تنقید کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اس ضمن میں ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں ہے وہ یہ ہے کہ آخر اس موقعے پر یہ بیان دینے کی وجہ کیا بنتی ہے اور نواز شریف اس سے کیا مقصد یا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی  کے مطابق نواز شریف خاصے عرصے سے ‘خلائی مخلوق’ اور اس کی خود سے دشمنی کا ذکر کرتے چلے ہیں۔ وہ یہ بیانیہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی نااہلی کے پیچھے اس خلائی مخلوق یعنی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔

تجزیہ کار عمیر جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ان کا راستہ روکا جا رہا ہے۔ اس حالیہ بیان کا مقصد ان کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ مضبوط کرنا ہے۔

دوسری طرف چونکہ سارے ایلیکٹیبلز (مضبوط انتخابی امیدوار) تحریکِ انصاف یا پیپلز پارٹی میں جا رہے ہیں، اس لیے نواز شریف چاہتے ہیں کہ جب الیکشن کے نتائج ان کے خلاف آئیں تو وہ کہہ سکیں کہ انھیں سسٹم کو چلینج کرنے کی سزا دی گئی ہے۔

نواز شریف کے بیان کا انڈیا میں خاصا ردِ عمل ہوا ہے اور وہاں اسے پاکستان کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف کی جانب سے انڈیا کے موقف کی تائید سمجھا جا رہا ہے۔ تو کیا نواز شریف ملک سے مایوس ہو کر مدد کے لیے بیرونِ ملک دیکھ رہے ہیں؟

عمران خان سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کا یہی مقصد ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا یہ بیان ایک سلسلے کی کڑی ہے جس میں ڈان لیکس اور ختم نبوت کی شق کا معاملہ بھی شامل ہے اور اس کا مقصد بین الاقوامی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کے خیال سے نواز شریف کو یقین ہو چکا ہے کہ اگلے انتخابات میں ان کی جیت کے امکانات کو ختم کر دیا جائے گا، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے موقف کو عالمی پذیرائی ملے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ان کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ امریکہ، انڈیا، چین، روس وغیرہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ کہتے تھے پاکستان کے اندر مسئلہ ہے، وہ میں اٹھاتا رہا ہوں لیکن میری سنی نہیں گئی۔‘

نواز شریف اس سے قبل جنرل مشرف کی حکومت میں ڈیل کر کے اپنے لیے مراعات حاصل کر چکے ہیں، لیکن اس بار ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ ‘پہلی ڈیل میں سعودی عرب اور برطانیہ کا بڑا ہاتھ تھا، لیکن اب وہ حالات نہیں رہے۔ سعودی عرب خود اندرونی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، اس لیے انھیں وہاں سے مدد نہیں ملے گی۔’

یہی حال امریکہ کا بھی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی پاکستان کے ساتھ پہلے ہی سفارتی کشیدگی چل رہی ہے، اس لیے اس بات کا امکان کم ہے کہ وہاں سے کوئی مدد آ سکے۔

نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز متعدد بار جیل جانے کا ذکر کر چکے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ اڈیالہ جیل میں ان کی آمد کی توقع میں صفائی کی جا رہی ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف اپنے جیل جانے سے قبل چاہتے ہیں کہ ان پر عائد الزامات کی نوعیت بدعنوانی سے بدل کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جنگ ہو جائے۔ ‘وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی جنگ یا اختلاف بدعنوانی نہیں بلکہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے

افتخار احمد کے مطابق نواز شریف کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ وہ ‘سول بالادستی چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پارلیمان اتنا مضبوط ہو جائے کہ اس کے تحت جتنے ادارے ہیں وہ اسی کو جواب دہ ہوں، جن میں فوج بھی شامل ہے اور عدالتی و احتسابی ادارے بھی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ الگ بات ہے کہ وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، اور کیا انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں اس مقصد کی خاطر کوئی سنجیدہ کوشش کی یا نہیں۔

نواز شریف کے بیان کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فوج کو بیک فٹ پر لایا جائے تاکہ انھیں کسی قدر سہولت مل جائے۔ لیکن کیا وہ اس مقصد میں کامیاب ہوئے یا ہو سکتے ہیں؟

عمیر جاوید کو اس سے اتفاق نہیں۔بقول انکے ‘فوج نے نہ تو پہلے ڈان لیکس کے معاملے پر دباؤ لیا تھا، اور نہ اب لے گی۔ کیوں کہ ان کے پاس ردِ عمل دکھانے کے آلات اتنے مضبوط ہیں کہ ان کو اس طرح کے بیانات سے دباؤ محسوس نہیں ہوتا۔

‘نواز شریف کے بیان کے فوراً بعد سارے چینلوں نے مذمت کی، ساری سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف بیان دیا۔ اس لیے الٹا دباؤ انھی پر پڑا ہے، فوج نے دباؤ نہیں لیا۔ بلکہ اس طرح کی صورتِ حال میں بی بی سی کے مطابق فوج کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی اثر و نفوذ کو دوبارہ سے لاگو کر سکیں

جواب چھوڑیں