میرے والد پرچھریوں کے وار کئے گئے ۔ بیٹا حامد الحق

Sami ul Haq
9

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے)

At his Home

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر راولپنڈی میں  گھر میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں مولانا جاں بحق ہوگئے۔

سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق کے بیٹے حمیدالحق نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کے والد کو چھریوں کے وار کرکے قتل کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق جب مولانا سمیع الحق پر حملہ ہوا تو وہ اپنے گھر میں اکیلے تھے جبکہ ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ‘ان کے گارڈ، جو ان کے ڈرائیور بھی تھے، نے بتایا کہ وہ کچھ وقت کے لیے انہیں کمرے میں اکیلا چھوڑ کر باہر گئے اور جب وہ واپس آئے تو انہیں شدید زخمی حالت میں پایا۔

ان کو زخمی حالت میں قریبی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

اس سے قبل صدر جے یو آئی پشاور مولانا حصیم نے بھی مولانا سمیع الحق کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا تھا کہ سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق مرحوم کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی اور ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔

جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ سمیع الحق خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں قائم دینی مدرسے دارالعلوم حقانیہ کے نگران تھے۔

مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو خیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے، انہیں پاکستان کے مذہبی اسکالر، معروف عالم اور سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

وہ دو مرتبہ سینیٹ کے رکن بھی رہ چکے تھے۔

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد کے بنائے ہوئے مدرسے دارالعلوم حقانیہ میں حاصل کی تھی اور بعد ازاں انہوں نے اس مدرسے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

خیال رہے کہ مولانا سمیع الحق طالبان سے متعدد مرتبہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے اور انہوں نے افغان حکومت کی طالبان سے حالیہ مذاکرات کی بھی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں بھی افغان حکام اور علما نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ سے طالبان کے مختلف گروہوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق کی جماعت نے رواں سال 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات اسلامی جماعتوں کی متحدہ جماعت متحدہ مجلس عمل سے الحاق نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی مولانا سمیع الحق کے ساتھ مل کر ملک میں مدرسوں، درسگاہوں میں اصلاحات پر عمل در آمد کے لیے اقدامات کر رہے تھے۔

انہوں نے پاکستان کی حکومت کو ’امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے خود کو علیحدہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتی ہے تو کراچی، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں امن و امان خود بخود بحال ہو جائے گا۔

جواب چھوڑیں