ڈرامے کے انداز میں بنائی جانے والی فلم شائقین کو سنیما نہیں لاسکتی

Resham
54

لاہور (24 گھنٹے)

فلم اسٹارریشم نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم اورسینما انڈسٹری کے شدید بحران نے جیسے بہتری کے آثارہی ختم کردیے تھے۔

اداکارہ ریشم کا کہناہے کہ بحران کی بڑی وجہ سینماگھروں کی جگہ پٹرول پمپس، پلازوں، شادی ہالزاورتھیٹروں نے لے لی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ بس اب پاکستان میں سینما گھروں کا کاروبار ہمیشہ کیلیے ختم ہو کررہ جائے گا۔ اس سلسلہ میں ملک بھرسے سینما گھرتوبڑی تعداد میں ختم ہوئے ہی لیکن اس کے ساتھ نگارخانوں کی تعداد میں بھی حیرت انگیز کمی دکھائی دی۔ اسٹوڈیوز کے جن فلوروں میں ’’اسٹارٹ ساؤنڈ، کیمرہ ، ایکشن‘‘ کی صدائیں گونجتی تھیں، وہاں گودام بن گئے۔ لاہور کے رائل پارک جیسے علاقے میں فلم پروڈیوسرز، ڈسٹری بیوٹرزاور فلمی ستاروں کے دفاترکی جگہ پرنٹنگ پریس اورکھانے پینے کے ہوٹل آباد ہوگئے۔

ریشم نے کہا کہ موجودہ دورمیں پاکستان میں فلمسازی کے شعبے میں نوجوان نسل نے قدم رکھ دیا ہے۔ فلم ڈائریکریشن، رائٹنگ، کیمرہ ورک کے علاوہ دیگرتکنیکی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ سامنے آنے لگے۔ یہی نہیں بہت سے نوجوان فنکارجوٹی وی پربہترین کام کررہے تھے، ان کو سلور اسکرین پر متعارف کروایا جارہا ہے، جوکہ خوش آئند بات ہے۔ دیکھا جائے تویہ کوئی آسان ٹاسک نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود فلم ٹریڈ میں نوجوان فنکاروں نے کامیاب انٹری دیدی ہے اوراب اس شعبے میں ایک مرتبہ پھر دکھائی دے رہی ہے۔

مگرفلم کی کہانی اورمیوزک کے شعبے پربہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب فلم کوڈرامے کے مزاج سے الگ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ اگرہم ایک فیچرفلم کوڈرامے کے انداز میں پیش کرینگے تووہ شائقین جوسینما گھروں میں اپنی فیملی کے ساتھ پہنچتے ہیں، وہ سینما گھر سے دور ہو جائینگے۔ اس کیلیے ضروری ہے کہ نوجوان فلم میکرز اپنے سینئرز کی رہنمائی میں فلمیں بنائیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے اوراس سے معاملات میں بہتری بھی آئے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ریشم نے کہا کہ میں ایک پروفیشنل اداکارہ ہوں اوراس وقت میری زیادہ ترمصروفیت ٹی وی پرمرکوز ہے، لیکن جب بھی کوئی اچھا، جانداراورمنفرد کردار فلم میں آفر ہوا تو ضرور کام کروں گی۔

جواب چھوڑیں