قندیل قتل کیس ۔ والدین کی بیٹوں کو بری کرنے کی درخواست مسترد

Qandeel Baloch
16

مانیٹئرنگ ڈیسک ملتان (24 گھنٹے )

Model Qandeel Baloch

ماڈل کورٹ نے قندیل بلوچ قتل کیس میں والدین کی جانب سے مبینہ قاتل بیٹوں کو معافی دینے اور ان کی بریت سے متعلق دائر درخواست مسترد کردی۔

ملتان کی ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیع نے قندیل بلوچ قتل کیس میں والدین کی جانب سے ملزمان بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت قندیل کے والدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیٹی قندیل بلوچ کے قتل کیس میں صرف اپنے بیٹوں کو معاف کیا ہے جبکہ باقی ملزمان کو معافی نہیں دی ہے۔

گزشتہ روز قندیل کے والدین نے اپنے بیٹوں کو معاف کرنے کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروایا تھا۔

قتل کیس میں قندیل کے والد عظیم بلوچ نے اپنے دونوں سگے بیٹوں مرکزی ملزمان وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کر کے عدالت میں معافی کا بیان حلفی جمع کرایا اور عدالت سے استدعا کی ہے وہ ان کے بیٹوں کو باعزت بری کر دے ۔

عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل میں غیرت کی کہانی بنائی گئی تھی جو حقائق کے خلاف ہے ۔

قندیل کے والد کا بیان حلفی میں کہنا تھا کہ قندیل قتل کا مقدمہ 16 جولائی 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر 2016 میں ہوئی، غیرت کے قانون 311 میں ترمیم بعد میں ہوئی ہے لہذا اس کیس پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ 345 کے تحت ملزمان کو بری کیا جائے۔

عدالت نے والدین کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی علاوہ ازیں عدالت نے آئندہ سماعت پر نئے گواہان کو بھی طلب کرلیا۔

جواب چھوڑیں