مولانا حامد الحق جمعیت علماء اسلام (س) کے قائم مقام امیرنامزد

Mulana Hamid Ul Haq
3

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے)

Acting Chief

 جمعیت علماء اسلام (س) کی مرکزی شوریٰ نے مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کو پارٹی کا قائم مقام امیر نامزد کردیا۔

جے یو آئی (س) کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس اکوڑہ خٹک میں ہوا جس میں مولانا سمیع الحق کے سیاسی جانشین کے ناموں پر مشاورت کی گئی۔اس موقع پر شوریٰ نے مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے حامد الحق کو قائم مقام امیر بنانے کی منظوری دی۔

مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق کے بغیر ہم یتیم ہوگئے ہیں، سب عہدیداران پرانے عہدوں پر بحال رہیں گے۔مولانا حامد الحق نے اپیل کی کہ مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

جامعہ دارالعلوم حقانیہ، جے یو آئی (س) کی مجلس شوریٰ اور حقانی خاندان کا پالیسی بیان میں کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق بین الاقوامی اور عالمگیر شخصیت تھے اور انہوں نے افغان جہاد کے تمام ادوار میں نمایاں کردار ادا کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی دنیا اور افغان حکومت نے مولانا سمیع الحق کو ”فادر آف طالبان“ کا لقب دیا تھا۔

جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے پالیسی بیان کے مطابق عظیم سانحہ کے بعد عالم اسلام میں دکھ اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے، افغان چینلز، خصوصاً سوشل میڈیا پر مولانا سمیع الحق کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے بیان میں کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق شہید کی کسی سے ذاتی دشمنی اور عناد نہیں تھا اور ان کی شہادت اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ افغانستان، بھارت ارو بیرونی عناصر کی سازشیں بہت حد تک شامل ہیں۔

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے اعلامیے کے مطابق مولانا کی شہادت کو گروہی یا ذاتی تنازع کا نام دینا انتہائی بے بنیاد ہے، کچھ عناصر اور حلقے نااہلی چھپانے کیلئے  حقائق کے منافی، بے بنیاد اور متضاد بیانات جاری کررہے ہیں لہٰذا مکمل تحقیقات کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنے تک ایسے بیانات سے گریز کیا جائے اور مولانا شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

یاد رہے کہ جمعیت علما اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کو 2 اکتوبر کو اسلام آباد میں ان کی اپنی رہائش گاہ میں چھریوں کے وار کر کے قتل کردیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں