لاہور ہائیکورٹ ۔ ایفی ڈرین کیس میں حنیف عباسی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

Hanif Abbasi
8

مانیئٹرنگ ڈیسک لاہور (24 گھنٹے )

Suspends Life Sentence

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے حنیف عباسیکی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حنیف عباسی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی۔

حنیف عباسی کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جیل میں 4 مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل میں انہیں ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے۔

اس میں مزید کہا گیا تھا کہ انسدادِ منشیات عدالت نے فیصلہ اہم قانونی نکات کو نظر انداز کرکے کیا، ادویات سازی کے لیے ایفی ڈرین منگوائی گئی تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ کیس میں نامزد دیگر 7 ملزمان کو رہا کیا گیا جبکہ درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے سزا سنائی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالت نے فیصلہ جاری کرتے وقت اصل حقائق پس پشت ڈال کر سزا سنائی اور ساتھ ہی عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ عدالت سزا معطل کرکے ضمانت منظور کرے اور رہا کرنے کا حکم دے۔

دوران سماعت عدالت عالیہ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ جن دستاویزات کا حوالہ دے رہے ہیں، وہ کہاں ہیں، فیصلے سے اپنے ثبوت ثابت کریں؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ انوائس پر یقین نہیں کیا جا سکتا، سزا ان شواہد پر دی گئی جو ملزمان نے پیش کیے۔

خیال رہے کہ حنیف عباسی نے ایفی ڈرین کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی اپیل دائر کی تھی، جسے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جولائی 2018 میں غیر قانونی طور پر عمر قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔

اس سے قبل ہائیکورٹ کے 2 رکنی راولپنڈی بینچ نے مذکورہ اپیل پر سماعت سے معذرت کی تھی

جواب چھوڑیں