لاہور ہائی کورٹ ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک دیا

lahore high court
15

مانیئٹرنگ ڈیسک (24 گھنٹے )

High Court

لاہور ہائی کورٹ کے فُل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی نئی  جے آئی ٹی کے خلاف درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ٹیم کو کام کرنے سے روک دیا۔

جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کے خلاف انسپکٹر رضوان گوندل سمیت دو درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا اور نئی ‘ جے آئی ٹی’ کو کام کرنے سے روک دیا۔

ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے جے آئی ٹی کے خلاف درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔فیصلہ سنانے کے وقت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت تمام لا افسران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔فیصلے سے قبل بینچ اور ایڈووکیٹ جنرل میں تلخی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کی تاریخ میں پہلی بار حکومت کو سنے بغیر فیصلہ سنایا گیا۔اس موقع پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ آپ ہمیں دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس محمد قاسم خان نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وقت پر کیس کی سماعت کی، لا افسر کمرہ عدالت میں موجود تھا جبکہ آپ کے پاس حکم واپس لینے کے لیے درخواست دینے کا فورم موجود ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 5 دسمبر کو پنجاب حکومت نے ماڈل ٹاؤن کیس میں ازسرِنو تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنائی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ میں اس سے متعلق درخواست نمٹا دی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں