لاہور ہائیکورٹ ۔ سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی درخواست ضمانت منظور

Aleem Khan
5

مانیئٹرنگ ڈیسک لاہور : (24 گھنٹے )

LHC Grants Bail

لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثے اور آف شور کمپنی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے عبدالعلیم خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

وکیل علیم خان نے کہا نیب دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنا ہے کی اثاثے آمدن سے زائد ہیں , محض گواہوں کی بنیاد پر مدن سے زائد اثاثون الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔

نیب کی جانب سےعلیم خان کے مشکوک بینک ٹرایکشنزاور سرمایہ کاری کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئی ، نیب تفتیشی افسر نے کہا ذرائع آمدن اور اخراجات میں توازن نہیں ، کئی ملین کے اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے۔

وکیل علیم خان کا کہنا تھا آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب نےعلیم خان کو بلاجواز گرفتار کیا، تفتیش میں نیب آج تک کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا، شواہد نہ ہونے کے باعث نیب ریفرنس دائر نہیں کر رہا۔

نیب پراسکیوٹر نے کہا علیم خان کے خلاف ٹھوس مواد موجود ہے، ریفرنس تیاری کے مراحل میں ہے تفتیشی رپورٹ جلد مکمل کرلی جائے گی۔

دلائل کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثے اور آف شور کمپنی کیس میں علیم خان کی ضمانت منظور کرلی اور علیم خان کو 10 لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔

یاد رہے کہ سابق صوبائی وزیر علیم خان نے آفشور کمپنیاں اور آمدن سے زائد اثاثے کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی تھی ، درخواست میں علیم خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آف شور کمپنیوں اور آمدن سے زائداثاثے کیس میں گرفتار کیا گیا، تمام اثاثے اور کمپنیاں گوشواروں میں ظاہر کر چکےہیں۔

دائر درخواست میں کہا گیا تھا نیب کی جانب سے لگائے الزامات بےبنیادہیں، اختیارات کےناجائز استعمال کاالزام غلط ہے، آج تک کوئی شکایت نیب کے پاس نہیں آئی۔

علیم خان نے استدعا کی تھی نیب آج تک کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا، عدالت ضمانت منظور کرتے ہوئے رہاکرنےکاحکم دے۔

واضح رہے 6 فروری کو نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اورآف شورکمپنیوں کیس میں پنجاب کے سینئر وزیرعبدالعلیم خان کو گرفتار کیا تھا۔

نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد علیم خان نے اپنا استعفیٰ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو بھجوا دیا

جواب چھوڑیں