خادم حسین رضوی سمیت تمام قائدین کیخلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ چلانے کا اعلان

Kahdem Hussain Rizvi
7

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے)

TLP

وفاقی حکومت نے تحریک لیبک پاکستان کی سیاست کو قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے پارٹی کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت تمام قائدین کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ چلانے کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ‘تحریک لبیک نے جس طرز کی سیاست کا آغاز کیا وہ نہ صرف پاکستانی قانون کے خلاف تھی بلکہ آئین پاکستان کو بھی للکارا گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘خادم حسین رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات میں لاہور کے سول لائنز تھانے میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، افضل حسین قادری کے دوسرے اہم رہنما کے خلاف گجرات، عنایت الحق شاہ کے خلاف تھانہ روات راولپنڈی اور حافظ فاروق الحسن کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات پر مقدمات درج کر دیے گئے ہیں’۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ‘یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام لوگ جو براہ راست املاک کو تباہ کرنے میں اور جنہوں نے سڑک پر خواتین کو روک کر بدتمیزی کی، جنہوں نے بسوں کو آگ لگائی اور لگ بھگ 5 کروڑ کا نقصان پہنچایا اس میں تمام متحرک لوگوں کے خلاف متعلقہ تھانوں میں مقدمہ درج کیا جارہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بغاوت کی سزا عمر قید ہے، ان کو دہشت گردی اور بغاوت میں 124 پی پی سی میں چارج کیا گیا ہے جس میں ان کے خلاف عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے اور قانون کے مطابق جو سزا ہوگی انہیں دی جائے گی’۔

فواد چوہدری نے کہا کہ معاشرےکے لیے اصول ریاست ہی طے کرتی ہے اور ریاست کے اندر تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے یکجا ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘5 نومبر 2017 سے لے کر 26 نومبر 2017 تک فیض آباد ایکسچینچ کو بند کیا گیا، لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور عوام کا جانی اور مالی نقصان پہنچایا، یہ دھرنا ختم ہوا پھر ایک اور احتجاج ہوا جس میں 5، 7 کروڑ کا صرف سرکاری اور پرائیویٹ لوگوں کو نقصان پہنچایا’۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے اس پارٹی اور اس کی قیادت کو آئین اور قانون کے اندر رہ کر احتجاج کرنے کی طرف لانے کے لیے حکومت نے پوری کوشش کی’۔

جواب چھوڑیں