جج ویڈیو سکینڈل ۔ معاملہ ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے ۔ اسلیئے مداخلت نہیں کررہے ۔ سپریم کورٹ

Judge-Arshad-Malik
13

مانیٹئرنگ ڈیسک اسلام آباد (24 گھنٹے)

Judge Video Case

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایف آئی اے پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سنایا۔

مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیس میں 5 ایشو سامنے آئے، پہلا ایشو یہ تھا کہ کونسا فورم ویڈیو پر فیصلہ دے سکتا ہےدوسرا ایشو یہ تھا کہ ویڈیو کو اصل کیسے جانا جائے؟ تیسرا ایشو اگر ویڈیو اصل ہے تو کیسے عدالت میں ثابت کیا جا سکے گا؟

چوتھا ایشو یہ تھا کہ ویڈیو اصل ثابت ہونے پر نواز شریف کی سزا پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ جبکہ پانچواں ایشو احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے کنڈکٹ سے متعلق تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر چیف جسٹس کا تحریر کردہ کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ارشد ملک بھی اسی کے ماتحت ہیں، لہٰذا کیس سے متعلق تمام درخواستیں نمٹائی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہوگا کہ ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا، ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے وڈیو مستند ہے یا نہیں اس کا ابھی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا اور اس موقع پر ویڈیو اور اس کے اثرات پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں سمجھتے۔

تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ارشد ملک بیان حلفی اور پریس ریلیز ایک تلخ حقیقت ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ بلیک میل ہوئے، جج کا یہ تسلیم کرنا ہمارے لیے چونکا دینے کے مترادف ہے اور ویڈیو پر ارشد ملک کے بیانات ان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج ایسے لوگوں سے ذاتی ملاقاتیں کرتے رہے جو ملزمان کے ساتھی تھے، وہ ملزم کو سزا دینے کے بعد بھی دوسرے شہر جاکر اس سے ملے، جج ملزم کے بیٹے سے دوسرے ملک جاکر بھی ملے

 جج اپنے ہی فیصلے میں مجرم ثابت کرنے والے شخص کی اپیل میں مددگار بنا، جج نے ملزم کے بیٹے سے ملاقات میں اپنے ہی فیصلے کی کمزوریاں بتائیں، ارشد ملک کو دھمکیاں، رشوت کی پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے اعلیٰ حکام کو آگاہ نہیں کیا

 اور دھمکیوں، رشوت کی آفر کے باوجود وہ کیس سے الگ نہیں ہوئے، جج کا طرز عمل ادارے کے لیے بدنما داغ کی طرح ہے اور ان کی مکروہ حرکتوں سے کئی ایماندار ججز کے سر شرم سے جھک گئے۔

رہے کہ تین روز قبل روز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مبینہ ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جواب چھوڑیں