متنازع انٹرویو پر سینئر سیاستدان نے نواز شریف کو خیرباد کہہ دیا

Sardar Ghulam Abbas
43

چکوال(24گھنٹے)

Pakistan Politics

چکوال سے تعلق رکھنے والے با اثر اور سینئر سیاستدان سردار غلام عباس اپنی پسند کے 2 ٹکٹ حاصل ہونے کے باوجود نواز شریف کے حالیہ انٹرویو کو جواز بناتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خیر باد کہہ دیا۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران سردار غلام عباس نے اعلان کیا کہ وہ نواز شریف کے حالیہ انٹرویو کی وجہ سے اب انتخابی مہم میں ان کا دفاع نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج سے ان کا مسلم لیگ (ن) سے کچھ لینا دینا نہیں، ہم جماعت چھوڑ رہے ہیں اور آج سے ہمارا گروہ آزاد ہے‘۔

ان کے مسلم لیگ (ن) سے جانے کے بعد چکوال کی سیاست پچھلے دور کی طرح ہوگئی ہے جو سردار گروپ بمقابلہ سردار مخالف گروپ تھی۔

حالیہ فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر تجزیئے سنے اور چوہدری نثار علی خان کا بیان پڑھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے ٹرائل میں تاخیر بھارت کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر ہورہی ہے جس کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل ناقابل قبول ہے، یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ نے بھی کہی۔

ان کے اس ریمارکس نے ملکی سیاست میں طوفان برپا کردیا اور انہیں ’غدار‘ کے لقب بھی دیا جانے لگا ہے۔

ان معاملات کے بعد سردار غلام عباس نے خود کو نواز شریف سے علیحدگی اختیار کرنے والے پہلا سیاست دان کہلوایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب کے انٹرویو نے کئی سوالات کھڑے کردیئے، مجھے ایک پیراگراف ملا جس کا جواب حکومت کی جانب سے دیا جانا تھا تاہم اسے ایک صحافی کے سامنے رکھا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے وہ تحریر بار بار پڑھی جس کے بعد میں اپنے ووٹرز کو اس معاملے پر مطمئن نہیں کرسکتا‘۔

نواز شریف کے بیان اور سابق قومی سلامتی کے مشیر میجر جنرل (ر) محمود علی درانی اور رحمٰن ملک کے بیانات میں فرق کے حوالے سے سوال کے جواب میں سردار غلام عباس کا کہنا تھا کہ ’میں اس انٹرویو میں کی گئی 2 باتیں سمجھنے سے قاصر ہوں، پہلی یہ کا عدالتی ٹرائل حکومت کی ذمہ داری ہے اور جیسا چوہدری نثار کہتے ہیں کہ بھارت نے تعاون نہیں کیا تو حکومت نے 5 سالوں میں اپنی ذمہ داری کیوں نہیں پوری کیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’انٹرویو میں ایک لائن تھی جس میں کہا گیا کہ (کیا ہمیں انہیں سرحد پار کرکے ممبئی میں 150 افراد کو ہلاک کرنے کی اجازت دینی چاہیے؟) اس میں ’چاہیے‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا، اس کا مطلب آپ نے پاکستان کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا ہے‘۔

جواب چھوڑیں