مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی کیخلاف مکمل ہڑتال

Kashmiri party leader
12

مانیئٹرنگ ڈیسک (24 گھنٹے )

Indian Held Kashmir

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف )پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی

 کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی نے کشمیری جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی تھی۔ئی دہلی سے جاری کردہ بیان میں بھارتی حکومت نے جے کے ایل ایف کو ’غیر قانونی تنظیم‘ قرار دیتے ہوئے اسے علیحدگی پسند تنظیموں کی وجہ سے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کا حصہ بتایا تھا۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یٰسین ملک کو 14 فروری کو پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد کی گئی کارروائیوں کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا۔مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت کی جانب سے دی گئی تھی۔ہڑتال کے باعث سری نگر سمیت دیگر شہروں میں تمام دکانیں بند اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔

اس دوران بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز اکثر جگہوں پر چیک پوسٹس پر تعینات تھے جبکہ سری نگر میں ممکنہ مظاہرے کو ناکام بنانے کے لیے نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔مشترکہ حریت قیادت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ جماعت اسلامی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی کا حکم سیاسی انتقام اور کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو دبانے کے طریقے کے علاوہ کچھ نہیں‘۔بیان میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کے حل کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والی تںظیموں پر پابندی کے فیصلے سے کشمیری اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

جواب چھوڑیں