انسانی حقوق کی علمبردار معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کو سپرد خاک کردیا گیا

asma f
50

لاہور (24 گھنٹے)

معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردارعاصمہ جہانگیر کی نمازہ جنازہ لاہور کے  قذافی اسٹیڈیم میں ادا کردی گئی

نماز جنازہ حیدرفاروق مودودی نے پڑھائی جس کے بعد عاصمہ جہانگیر کو ان کی وصیت کے مطابق بیدیاں روڈ پر واقع ان کے فارم ہاؤس میں سپرد خاک کردیا گیا۔

نماز جنازہ میں وکلاء برادری، انسانی حقوق کے کارکنوں، عزیز و اقارب سمیت شہریوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی

جبکہ خواتین کی بڑی تعداد بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئی

یاد رہے کہ مرحومہ کا نکاح مولانا مودودی نے پڑھایا تھا۔

مرحومہ کے آ نماز جنازہ میں سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری، اعتزاز احسن اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود  تھیں۔

خیال رہے کہ معروف وکیل اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر کو 11 فروری کو اچانک دل کا دورہ پڑنے پر نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں اور انتقال کر گئیں۔

نجی ہسپتال کے زرائع کہ مطابق عاصمہ جہانگیر برین کا انتقال ہیمرج کی وجہ سے ہوا۔

عاصمہ جہانگیر مرحومہ  نے اپنے سوگواران میں شوہر، دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو چھوڑا ہے۔

معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کی وفات کو ’قومی نقصان‘ قرار دیا گیا۔  ملک بھر کی عدالتوں میں دوسرے روز بھی سوگ رہا سینیٹ میں تعزیتی ریفرنس کے ذریعے عاصمہ جہانگیر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور قومی اسمبلی میں بھی تعزیتی قرارداد منظور کی گئی

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور وہ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد انکی پہچان تھی۔

عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا اور وہ ججز بحالی تحریک میں بھی پیش پیش رہیں۔

عاصمہ جہانگیر  نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی.

عاصمہ نے 1980 میں لاہور کورٹ اور 1982 میں سپریم کورٹ سے اپنے پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز کیا ۔

عاصمہ جہانگیر کو فوجی ڈکٹیٹر ضیاالحق کی حکومت کے خلاف احتجاج اور بحالی جمہوریت تحریک کا حصہ بننے کے پاداش میں 1983 میں جیل بھیج دیا گیا اور۔2007 میں ایک اور فوجی مشرف کے دور میں وکلا تحریک میں سرگرم عمل بننے پر نظر بند رکھا گیا۔

عاصمہ جہانگیر نے مشترکہ طور پر ہیومن رائٹس کمیشن اور وومنز ایکشن فورم کی بنیاد رکھی۔

پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے خدمات پر انھیں 2010 میں ہلالِ امتیاز اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونسیکو کی جانب سے بھی ایوارڈ سے بھی نواز گیا۔

عاصمہ جہانگیر کو 2014 رائٹس لائیولی ہوڈ ایوارڈ اور 2010 فریڈم ایوارڈ بھی دیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.