حکومت کی 100 روزہ کارکردگی ۔ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ 30 جون سے پہلے بنادیں گے. شہزادارباب

Arbab Shahzad
5

مانیٹئرنگ ڈیسک(24 گھنٹے)

Hundred Days

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزادارباب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت  نے 34 میں سے 18 اہداف کامیابی سے حاصل کرلیے ، دیگر پر کام جاری ہے،جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ 30 جون سے پہلے بنادیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے کفایت شعاری کو اپنایااور نہایت ایمانداری سے شفاف اندازمیں خودکو قابل احتساب بھی ٹھہرایا ہے ۔

حکومت کے ابتدائی سو دن پورے ہونے پر اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد رباب نے کہا کہ ترقی کی بنیاد رکھنا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے زیادہ اہم تھا،آئندہ پنجاب میں ولیج کونسلز تشکیل دی جائیں گی جبکہ لوکل حکومتوں کو مکمل با اختیار بنایاجائےگا۔

انہوں نے کہا کہ مکانات کی تعمیر سےروزگار کےلاکھوں مواقع پیدا ہوں گےاور سیاحتی پروگرام کے لئے فریم ورک مکمل کرلیا،سی سی آئی میں پیش کیاجائےگا۔

معاون خصوصی وزیر اعظم نے کہا کہ فصلوں ، لائیو اسٹاک اور فشریز کی ترقی کے منصوبے شامل ہیں جبکہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کو ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل پروٹیکشن پروگرام وزیراعظم کے دل کے بہت قریب ہے ،جوکہ حکومت کے فلیگ شپ پروگرام میں سے ایک ہوگا،اس سے دو کروڑ افراد کو غربت سے نجات ملے گی،خواتین کے لیے انصاف کا حصول آسان کیا جائے گا۔

شہزاد ارباب نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کیا جارہاہے،ایجوکیشن بلیو پرنٹ کو لانچ کرچکے ہیں، تعلیم تک رسائی اور معیار پر توجہ دی گئی ہے ، ملک بھر میں یکساں اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پانچ سال میں ملک بھر میں 10 بلین درخت اگائے جائیں گے ،صوبوں کے تعاون سے ضم ہونیوالے اضلاع کے لئے صحت کارڈ کا دائرہ وسیع کیا جارہا ہے۔

شہزاد ارباب نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی علاقائی اور عالمی اہمیت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے، افغانستان میں قیام امن کے لیے ہمیشہ کی طرح کوشاں ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ،جنوبی پنجاب کے لیے الگ سالانہ ترقیاتی پروگرام ہوگااور30جون 2019 سے پہلے جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکریٹریٹ بنادیا جائےگا،اس کے لیے الگ ایڈیشنل سیکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی تعینات ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں تیز رفتار ترقی کے لئے پروگرام پر آئندہ دو ماہ میں کام شروع ہوجائیگاجبکہ فاٹا کا مرحلہ وار انضمام ابھی جاری ہےتاہم فاٹا میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کو حتمی شکل دے رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتے ہیں،ہمارا یقین ہے کہ چیلنج قبول کیے بغیر ترقی کی طرف نہیں جایا جاسکتا،سال میں دو بار حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے ۔

جواب چھوڑیں