جرمنی نے 80 سال بعد پولینڈ سے کس بات کی معافی مانگ لی؟

German President Twe Pic
12

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے)

Apologizes to Poland

جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائنمر نے پولینڈ سے تاریخ کے سب سے خونریز تنازع پر پولش شہر ویلون میں تقریب کے دوران معافی مانگ لی۔ یاد رہے کہ ویلون شہر میں 80 سال قبل عالمی جنگ دوئم کا پہلا بم گرا تھا۔

موقئر انگریزی روزنامے ڈان کے مطابق تقریب کے دوران جرمن صدر نے جرمن اور پولش دونوں زبانوں میں کہا کہ ‘میں ویلون میں حملے کے متاثرین کے آگے اپنا سر جھکاتا ہوں، میں جرمن جبر و ظلم کے پولش متاثرین کے آگے سر جھکاتا ہوں اور آپ سے معافی مانگتا ہوں’۔

عالمی جنگ دوئم کے دوران پولینڈ کو نہایت خوفناک لمحات دیکھنے پڑے تھے، تنازع میں جہاں 5 کروڑ افراد ہلاک ہوئے ان میں 60 لاکھ صرف پولز تھے۔

ان اعداد و شمار میں 60 لاکھ یہودی بھی شامل تھے جو ہولو کاسٹ میں ہلاک ہوئے اور ان میں سے آدھی تعداد پولش یہودیوں کی تھی۔

جرمن صدر نے اپنے پولش ہم منصب کی موجودگی میں بیان دیا کہ ‘یہ جرمنز تھے جنہوں نے اسنانیت کے خلات جرائم کیے، جو بھی اسے ماضی کی باتیں کہہ رہا ہے وہ اپنے بارے میں فیصلہ کر رہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جرمنی کا صدر ہونے کی حیثیت سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نہیں بھولیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ ہم یاد رکھیں اور تاریخ نے جو ہم پر ذمہ داری دی ہے ہم اسے برداشت کریں گے’۔

پولش صدر اندرزیج دودا نے نازی جرمنی کے پولینڈ پر حملے کو جنگی جرائم قرار دیا۔

جواب چھوڑیں