اسلام آباد ہائی کورٹ۔ فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس

8

مانیٹئرنگ ڈیسک اسلام آباد (24 گھنٹے)

Contempt of Court

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف پریس کانفرنس کرنے پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے یکم نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے نواز شریف کو ریلیف دینے کے معاملے پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نواز شریف کی رہائی سے مختلف بیماریوں میں ملوث ملزمان کے نصیب بھی کھل گئے ہیں۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے یہ کہہ کر عدالت کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ عدلیہ نے ایک ملزم کو خصوصی رعایت دینے کے لیے شام میں عدالت لگائی۔
معاون خصوصی کو جاری نوٹس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی ترجمان کے طور پر اپنے اس بیان سے عوام کی نظر میں عدلیہ کو اسکینڈلائز، عدلیہ کے وقار کو نیچا دکھانے کی کوشش کی، وزیراعظم کی معاون خصوصی کے طور پر آپ کا عدلیہ سے متعلق بیان غیر ضروری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری نوٹس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات کو یکم نومبر (جمعہ) کو صبح 9 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے

جواب چھوڑیں