حکومت کی اکثریت جعلی. وزیراعظم جعلی اور خلائی ہے۔ فضل الرحمن

Nawaz and Fazal
8

مانیئٹرنگ ڈیسک لاہور (24 گھنٹے )

Fazal Ur Rehman

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر اعظم عمران خان کو جعلی، خلائی اور نصب کردہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نواز شریف سے ملاقات کا کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں تھا، وہ ان کی خیریت دریافت کرنے گئے تھے اور جلد آصف زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے جاتی امرا میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے ملاقات کی جو دو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔

ملاقات کے دوران خراب ہوتی معیشت، موجودہ سیاسی صورتحال اور نیب کی کارروائیوں سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے آج نواز شریف سے ان کی صحت دریافت کرنے کے لیے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کا کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب دو سیاسی لوگ بیٹھتے ہیں تو سیاسی امور پر بھی بات ہوتی ہے اور ملک میں مہنگائی پر ہم دونوں نے ایک مشترکہ تشویش محسوس کی جہاں اس مہنگائی کے سبب عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کردیا گیا ہے اور ہچکولے کھاتی پاکستانی معیشت پر ہمیں تشویش ہے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ یہ مہنگائی اور خراب صورتحال پوری قوم کا مشترکہ طور پر احساس ہے جو اب سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اور نواز شریف سے ملاقات میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ ہم اس صورتحال پر کس طرح قابو پا کر ملک کے مستقبل کو محفوظ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے فوراً بعد ہم سب ایک پیج پر آ گئے تھے کہ یہ الیکشن دھاندلی کے الیکشن ہیں، جو حکومت ہے اس کی اکثریت جعلی ہے وزیراعظم جعلی، خلائی اور نصب کردہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک ایسے لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے جو پاکستان کے نظریے کو نہیں جانتے، پاکستان کے حالات سے واقفیت نہیں رکھتے، معیشت سے بھی واقف نہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جب ملک ایسے لوگوں کے حوالے کردیا جائے گا تو آپ اندازہ لگا لیں کہ ملک کس طرف جائے گا اور اس پر تمام جماعتیں مشترک ہیں۔

انہوں نے کہا میں آئندہ دنوں میں آصف زرداری سے بھی ملاقات کروں گا اور ان سے بھی انہی امور پر بات چیت ہو گی، تمام جماعتوں میں متفقہ نکات پر باہمی ہم آہنگی ہونی چاہیے۔

ایک اور سوال کے جواب میں جمعیت علمائے اسلام ملک(ف) کے سربراہ نے کاہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں عمران خان کی حکومت ہے تو ان کی حکومت نہیں ہے اور اس کے پیچھے قوتیں ہیں وہ اپنی طاقت اور ادارے کی طاقت کو استعمال کر کے انہیں کب تک کھینچتی ہیں ، اسی پر انحصار ہے۔

نیب کی جانب سے کارروائیوں کے سوال پر فضل الرحمٰن نے کہا کہ نیب ایک انتقامی ادارہ ہے اور جس کو استعمال کیا جا رہا ہے جس کو برے طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے، نیب سے احتساب اور انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی اور نیب کے حوالے سے ہمیں کچھ سخت فیصلے لینے چاہئیں۔

جواب چھوڑیں