پاکستان کو ایف ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بچنے کیلئے 3 رکن ممالک کی حمایت حاصل

FATF
19

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے )

FATF

 پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے 3 اہم رکن ممالک کی حمایت حاصل کرلی ہے، تاہم خطرات اب بھی برقرار ہیں۔

عالمی منی لانڈرنگ کے نگراں ادارے کی نظر میں جون 2018 سے ہے جب ملک کے مالی نظام اور سیکیورٹی میکانزم کی تشخیص کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ خدشات کی بنا پر اسے ‘گرے لسٹ’ میں ڈالا گیا تھا۔

نجی نیوز چینل کے مطابق امریکا، برطانیہ اور پاکستان کے حریف بھارت کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کی صرف ترکی نے مخالفت کی تھی جبکہ پاکستان کے دیرینہ اتحادی چین نے بھی اس معاملے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔

ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ کا مشترکہ شریک چیئرمین، نئی دہلی چاہتا ہے کہ اسلام آباد کو پیرس میں مقیم ادارے کی بلیک لسٹ ممالک میں شامل کیا جائے، جو مالیاتی جرائم سے لڑنے میں عالمی معیار پر پورا اترنے میں ناکام ممالک کی فہرست ہے۔

تاہم اسلام آباد نے سفارتکاری کے ذریعے ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل کرلی ہے۔

36 ملکوں کے ‘ایف اے ٹی ایف چارٹر’ کے مطابق بلیک لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کم از کم 3 رکن ممالک کی حمایت ضروری ہے۔

ترک خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے کے پلینری اینڈ ورکنگ گروپ کے 5 روزہ اجلاس کے بعد اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ‘خطرہ اب بھی ختم نہیں ہوا’۔

جواب چھوڑیں