پاکستان اور ترک کے تعلقات گہرا تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔ صدر رجب طیب اردوان

PM , Imran Khan
20

مانیٹئرنگ ڈیسک ( 24 گھنٹے)

Shares Views

 وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان داعش کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے۔ افغان مسئلے کے حل میں علاقائی طاقتوں کا کردار اہم ہے۔ بھارت سے مرکزی تنازعہ کشمیر ہے، جس پر نئی دہلی بات کرنے کو تیار نہیں۔

صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکی اور افغانستان کے سربراہوں کا اجلاس اہم ہوگا۔

انقرہ میں ترک رجب طیب اردوان سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ترکی کی آزادی کی جدو جہد میں حصہ ڈالا، پاکستانیوں کی ترکی سے محبت تیسری پشت تک آ پہنچی ہے ،ترکی سے تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر سے افغان مسئلے پر بات چیت ہوئی، پاکستان طالبان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ،عالمی برادری سے افغان مسئلے میں مزید کردار چاہتے ہیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مرکزی تنازعہ کشمیر ہے ، بھارت کشمیریوں کی جمہوری جدوجہد تشدد سے کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ترکی نے شام جنگ کے متاثرین کی مدد کے لیئے بہترین کردار ادا کیا ہے، داعش کیخلاف جنگ میں پاکستان ترکی کے ساتھ ہے ۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترک صدر سے آئندہ 5سال میں 50لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبےپر بھی بات ہوئی ہے۔

اس موقع پر ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترک کے تعلقات گہرا تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔

ترک صدر نے وزیراعظم عمران خان کو الیکشن میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے بطور کھلاڑی اپنے ملک کا جھنڈا کئی کامیابیوں میں لہرایا۔

طیب اردوان نے کہا ہے کہ عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کے لئے بہت جدو جہد کی۔

طیب اردوان نے گولن تحریک سے متعلق پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

ترک صدر نے کہا کہ وہ پاکستانی وزیراعظم کے مولانا روم کے مزار کی زیارت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں