دانیال عزیز توہین عدالت کیس: ’کورٹ میں پیش کی گئی ویڈیو اصلی نہیں‘

contempt of court , Daniyal Aziz case
42

اسلام آباد(24گھنٹے)

Supreme Court

توہینِ عدالت کیس میں وفاقی وزیر برائے نجکاری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت میں پیش کی گئی ویڈیو کلپس اور ڈان نیوز پر چلنے والے ویڈیو کلپس میں مطابقت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ میں لیگی رہنما دانیال عزیر کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے آغاز میں دانیال عزیز کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل سے متعلق ڈان نیوز پر جو ویڈیو چلی اس کا اصل کلپ سے موازنہ کرانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو ٹرانسکرپٹ عدالت میں پیش کیا گیا وہ اصل ویڈیو کلپ سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کلپس کیسے بنے کس نے چلائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی ٹی وی چینل پر چلائی گئی فوٹیجز کا اصلی ویڈیو کلپ سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ گواہ پر جرح ہوچکی، اسی لیے اب پیمرا کے گواہ کو دوبارہ عدالت میں طلب نہیں کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایڈیٹنگ کے معاملے میں پیمرا گواہ سے پوچھنا میری نظر میں غیر متعلقہ ہے، اگر آپ چاہیں تو ویڈیو کلپ فراہم کردیں۔

دانیال عزیز کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس وقت سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی سے متعلق ایک ویڈیو کلپ لگایا ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں کافی حد تک ہیجانی کیفیت کا شکار ہوں۔

عدالت نے ڈان نیوز کے پروڈیوسر کاشف جبار کو بطور گواہ عدالت میں طلب کرلیا، جبکہ پیمرا کے حاجی آدم کو دوبارہ گواہی کے لیے بلانے کی دانیال عزیذ کی درخواست مسترد کردی۔

عدالتِ عظمیٰ نے دانیال عزیذ کے خلاف توہینِ عدالت کیس سماعت 24 اپریل تک ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں