کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتے ہیں ۔ چین کا بھارتی وزیر خارجہ کو جواب

China Foreign Minister
8

مانیٹئرنگ ڈیسک  (24 گھنٹے )

Rejects Unilateral Action

چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتے تنازع پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق چینی وزیر خارجہ سے ان کے بھارتی ہم منصب سبھرامن یم جے شنکر نے ملاقات کی۔

اس دوران وانگ ژی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاک-بھارت تنازع کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، چین صورتحال کو پیچیدہ کرنے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی دہلی کے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے متنازع علاقے کی حیثیت بدل جائے گی اور اس کے نتیجے میں خطے میں صورتحال کشیدہ ہوگی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں گے اور علاقائی امن اور استحکام کی مجموعی صورتحال کی مشترکہ طور پر حفاظت کریں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے چین کے سرحدی علاقوں کو اپنی حدود میں شامل کرنے کے اقدام نے چینی خودمختاری اور مفادات کو چیلنج کیا، یہ عمل دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کا تحفظ، امن و سلامتی پر دو طرفہ معاہدوں کے برعکس ہے اور اس پر شدید تحفظات ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے اقدامت چین کی طرف کوئی اثرنہیں ڈالیں گے نا ہی اس حقیقت کو تبدیل کریں گے کہ چین کی متعلقہ علاقے پر خود مختاری اور موثردائرہ کار کی حیثیت ہے۔

چینی وزیرخارجہ نے امیدظاہر کی کہ بھارتی فریق ایسی باتیں کریں گے جو دونوں کے باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے بہتر ہیں، ساتھ ہی ایسے اقدام کریں گے جو سرحدی علاقوں، امن اور سکون کو برقرار رکھنے کے لیے موزوں ہوں جبکہ چین-بھارت تعلقات کی مجموعی صورتحال میں بے جا مداخلت سے گریز کریں گے۔

جواب چھوڑیں