نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں .چیئرمین نیب

chairman NAB Javed Iqbal
4

مانیئٹرنگ ڈیسک اسلام آباد (24 گھنٹے )

Chairmen NAB

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، نیب اور معیشت تو ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں بلکہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، آئندہ کسی تاجر کو نیب دفتر نہیں بلائیں گے، سوال نامہ دیا جائے گا۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا نیب نے ایسا قدم نہیں اٹھایا جس کا ملکی معیشت کو نقصان ہو، معاشی زبوں حالی میں نیب کا کوئی کردار نہیں ہے، جب سوال پوچھتے ہیں کیا نقصان کیا تو جواب میں خاموشی چھا جاتی ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ جہاں 5 لاکھ کی جگہ 50 لاکھ لگیں تونیب سوال نہ کرے، سوال پوچھنے سے پگڑیاں اچھلنے لگیں؟ سوال کرنے سے کسی کی عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچتی، نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور چلیں گے، تاجروں نے اپنے خطوط میں نیب کی کارکردگی کو سراہا۔

آئندہ کسی تاجر کو نیب دفتر نہیں بلائیں گے، سوال نامہ دیا جائے گا، تاجر قانون کے مطابق بلا خوف اپنا کاروبار جاری رکھیں، جن لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ اپنے وکلا کو کروڑوں روپے دیتے ہیں، منی لانڈرنگ کے لیے پوچھا جا رہا ہے اور پوچھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ نیب کے پاس ثبوت نہ ہوتے تو لوگ ملک سے نہ بھاگتے، درخواست ہے نیب کے ریڈار پر موجود افراد کو اعلیٰ عہدے نہ دیے جائیں، اسلام آباد، پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں بیوروکریسی کو ہم سے شکایت نہیں، بیوروکریٹ قانون کے مطابق کام کرے ان کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں۔

جاوید اقبال نے کہا ’خلیجی ممالک کے اہم رکن نے پانی اور سیوریج کے مسائل پر رابطہ کیا، کہا کہ نیب کے توسط سے مسائل کے حل کے لیے سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ہم نے ان سے معذرت کرلی کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پہلے انکوائری کرنے پھر گرفتار کرنے کا کہناغلط ہے، پھولوں کے ہار پہن کر نیب پر تنقید کی جاتی ہے کہ بغیر ثبوت گرفتار کرتے ہیں، ہمیں تو 24 گھنٹے کے اندر گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے، ثبوت ہونے پر ہی گرفتار کرتے ہیں، لوگ ملک سے فرار ہو جاتے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں، لیکن یہاں صبح سویرے قائمہ کمیٹی اور اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جاتا ہے، تفتیش میں تاخیر کے لیے یہ ساری باتیں کی جاتی ہیں۔

>

جواب چھوڑیں