ممبئی حملہ کیس حتمی مراحل میں داخل، 2 گواہان کی طلبی کے سمن جاری

Mumbai Attacks
44

اسلام آباد(24گھنٹے)

Mumbai Attacks

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ممبئی حملہ کیس حتمی مراحل میں داخل ہوگیا اور عدالت نے استغاثہ کے 2 گواہوں، جن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا اور زاہد اختر کو طلبی کا سمن جاری کردیا۔

ممبئی حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔

سماعت کے دوران ڈی پی او ڈی جی خان سہیل حبیب تاجک کا بیان قلمبند کیا گیا۔

کیس میں ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرلی گئی۔

واضح رہے کہ ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے 27 بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق وزرات داخلہ، خارجہ اور ایف بی اے سے بھی جواب طلب کرلیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’کیس حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے صرف 2 پاکستانی گواہوں کا بیان قلمبند کیا جانا باقی ہے‘۔

جسٹس شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ ’عدالت کے بار بار کہنے کے باوجود جنوری 2016 سے بھارتی گواہوں سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا‘۔

عدالت نے 23 مئی تک بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم جاری کیا۔

واضح رہے کہ اب تک کیس میں مجموعی طور پر ایف آئی اے کے 85 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے 150 گواہوں کی فہرست عدالت کو دی گئی تھی جن میں سے 63 گواہوں کو غیر ضروری قرار دے کر ترک کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مقدمے میں مجموعی طور 8 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے ملزم حماد امین، شاہد جمیل، ظفر اقبال، عبدالواحد، محمد یونس، جمیل احمد اور سفیان ظفر جیل میں ہیں۔

یاد رہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی پر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے، جس میں 166 افراد ہلاک ہوئے۔

54 سالہ ذکی الرحمٰن لکھوی کو ممبئی میں ہونے والے حملوں کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا، ان کی گرفتاری مظفر آباد میں لشکر طیبہ کے کیمپ کے قریب سے ہوئی تھی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کو فروری 2009 میں گرفتار اور بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا جبکہ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ممبئی حملوں میں ملوث افراد کی تربیت کی تھی جبکہ وہ ان کے مددگار بھی رہے تھے۔

ایف آئی اے کے خصوصی تفتیشی یونٹ (ایس آئی یو) نے ذکی الرحمٰن لکھوی اور 6 دیگر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔

جواب چھوڑیں