سابق صدر آصف ذرداری کا حامد میر کو انٹرویو روک دیا گیا ۔ کیوں ؟

Asif Zardari , Hamid Mir
8

مانیٹئرنگ ڈیسک کراچی (24 گھنٹے )

Off Air

سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویو نجی چینل پر نشر ہونے سے روک دیا گیا۔

موقئر انگریزی روزنامے “ڈان” کی خبر کے مطابق سینئر صحافی اور نجی نیوز چینل  کے اینکرپرسن حامد میر نے انٹرویو کی نشریات بند ہونے کے بعد ٹوئٹر پر اپنے غصے کا اظہار کیا کہ ’میں اپنے ناظرین سے صرف معذرت کرسکتا ہوں کہ انٹرویو جیو نیوز پر شروع ہوا اور روک دیا گیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں مزید تفصیلات جلد پیش کروں گا لیکن یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کس نے (نشریات) رکوائی ہے، ہم ایک آزاد ملک میں سانس نہیں لے رہے‘۔

حامد میر نے کہا کہ انٹرویو کی نشریات کے چند سیکنڈ بعد ہی جیو نیوز نے اعلان کیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویو آن ایئر نہیں ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ’دنیا بھر سے موصول ہونے والی کالز پر پوچھا جارہا ہے کہ کیا ہوا؟ ’اسٹیٹ آف پاکستان‘ اس ملک کو بدنام کررہے ہیں ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں‘۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مختصر ویڈیو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف بہت بڑے اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں۔

حامد میر نے آصف علی زرداری سے متعلق ٹوئٹ میں کہا کہ ’کہ تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ کیا وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان سے بڑے ملزم ہیں؟ یاد رہے کہ میں نے حکام کے زیر حراست احسان اللہ احسان سے انٹرویو کیا اور میں آصف علی زرداری سے پارلیمنٹ ہاؤس میں انٹرویو کررہا تھا‘۔

اس معاملے پر پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کیا کہ ’سلیکٹڈ حکومت صرف اپنی آواز سنانا چاہتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویو سینسر کردیا گیا، شروع ہوتے ہی اسے بند کردیا گیا۔

واضح رہے کہ متعدد صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں نے واقعہ کا نوٹس لیا اور ملک میں پریس سینسرشپ کی مذمت کی۔

فریڈم نیٹ ورک نے کہا کہ حامد میر کے ساتھ آصف علی زرداری کا انٹرویو نشرہونے کے چند سیکنڈ بعد بند کردیا گیا جو جبری سینسرشپ محسوس ہوتی ہے اور قابل مذمت ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیک جرنلسٹ کی ایشیا ڈیسک نے مذکورہ واقعہ کو آزادی صحافت پر غیرمعمولی حملہ قرار دیا۔

جواب چھوڑیں