پی ٹی آئی حکومت نے اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروادی

Federal Advisor
5

مانیئٹرنگ ڈیسک اسلام آباد (24 گھنٹے )

Amnesty Scheme

حکومت نے اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروادی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں طویل عرصے سے زیر غور ٹیکس ایمنسی اسکیم 2019 کی منظوری دی گئی۔

واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت کالا دھن رکھنے والے افراد اسے سفید کرسکیں گے۔

بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد معیشت کو ڈاکیومنٹیڈ کرنا ہے تاکہ معیشت تیز رفتاری سے چل سکے اور جو ڈیڈ اثاثے ہیں انہیں معیشت میں ڈال کر اسے فعال بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں بہت آسان ہو، اس کو حقیقت پسندانہ رکھا ہے اور اس میں قیمت اتنی زیادہ نہیں رکھے گئے ہیں، اس کے پیچھے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ صحیح طریقے سے حصہ ڈالیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ  30 جون تک اسکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس اسکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ حصہ لے سکے گا، تاہم وہ لوگ جو حکومت میں عہدے رکھ چکے ہیں یا جو ان پر انحصار کرتے ہیں وہ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے اور ریئل اسٹیٹ کے علاوہ تمام اثاثوں کو 4 فیصد کی شرح دے کر اثاثے ظاہر کرنے والی اسکیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک یا بیرون ملک موجود نقد اثاثے ظاہر کرنے پر شرط یہ ہے کہ انہیں کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھا جائے جبکہ ریئل اسٹیٹ کے معاملے میں اس کی قیمت ایف بی آر کی مقرر کردہ قیمت سے ڈیڑھ فیصد زیادہ ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ کی قیمت کے قریب آسکے۔

اس موقع پر ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر کے مطابق کسی پراپرٹی کی قیمت 10 لاکھ روپے ہے تو اسے 15 لاکھ پر سفید کیا جائے گا اور اس پر ڈیڑھ فیصد ادا کرنا پڑے گا۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بیرون ملک لے جائے گئے پیسوں کو اگر سفید کرنا ہے تو اسے بھی کیا جاسکے گا اور انہیں 4 فیصد دینا ہوگا اور بقایا رقم کو پاکستان میں لاکر یہاں کے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا پڑے گا، تاہم وہ اگر پاکستان میں پیسے نہیں لانا چاہتے اور بیرون ملک ہی اسے سفید کروا کر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں 4 فیصد کے ساتھ مزید 2 فیصد دینا پڑے گا۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو گزشتہ اسکیموں سے مختلف بتاتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بے نامی قانون پاس ہوا ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت اگر کوئی اثاثے ظاہر نہیں کرتا تو تمام اثاثے ضبط کیے جاسکتے ہیں اور لوگ جیل بھی جاسکتے ہیں، لہٰذا یہاں بے نامی اکاؤنٹس اور جائیدادوں کو سفید کرنے کی مہلت دی جارہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے چل رہے تھے جو ایک اچھے طریقے سے مکمل ہوئے ہیں اور فی الحال اسٹاک لیول معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد ادارے کا فل بورڈ اس معاہدے کو منظور کرے گا، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہے ہیں وہ سب پہلے اس کے پاس جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار ممالک کو مدد فراہم کی جاسکے، ہم جو کرنے جارہے ہیں وہ اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی آمدن سے زائد اخراجات کررہے ہیں تو اس میں کمی پاکستان کے فائدے میں ہے، اگر ہمارے ریاستی ادارے مسلسل خسارے میں ہیں تو ان خساروں کو کم کرنا ملک کے لیے فائدے مند ہے، درآمدات و برآمدات کے فرق کو کم کرنے، قرضوں کے نظام کو بہتر کریں یہ تمام چیزیں پاکستان کے فائدے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے کچھ لوگوں کو قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، ہم نے 3 سے 4 بڑے فیصلے کیے ہیں، اگر بجلی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں پر کوئی فرق نہیں پڑنے دیں گے اور اس کے لیے 216 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں اور اس سے 75 فیصد صارفین مستفید ہوں گے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح احساس پروگرام کے بجٹ کو دگنا کیا جارہا ہے اور اسے 100 ارب کے بجائے 180 ارب روپے کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے سے گیس کی قیمتیں بڑھیں گی تو اس میں بھی 40 فیصد ایسے صارفین جو کم گیس استعمال کرتے ہیں انہیں منفی اثرات سے بچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقعے پر وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کے اعزازی چیئرمین شبر زیدی نے کہا کہ ایف بی آئی، اسٹیٹ بینک اور نادرا سمیت دیگر ارادوں کے باہم تعاون اور معلومات کے تبادلے سے سرمایہ کار کا ڈیٹا جمع کر کےانہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائےگا۔

موجودہ ٹیکس کنندگان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی ہدایت کی تھی کہ کسی کا بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں ہوگا‘

معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پاکستان کے خلاف عالمی عدالت میں گزشتہ 5 برس کے دوران 39 مقدمات درج ہوئے اور وکلا کو قومی خزانے سے تقریباً 14ارب روپے کی ادائیگی کی گئی

جواب چھوڑیں