ہندوستان میں پہلا فساد مودی جی کے گجرات میں نظر آتا ہے۔

India violence
144

(دہلی (24گھنٹے

حال ہی میں دہلی میں منعقدہ اردو کے تین روزہ ‘جشن ریختہ’ میں ملک کے موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر بالواسطہ اور براہ راست تبصرے سنے گئے۔ معروف تاریخ داں ہربنس مکھیا نے صوفیا اور کبیر کی میل جول اور مذہبی ہم آہنگی کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ‘عہد وسطی میں جنگ و جدل اور خون خرابے بہت ہوئے لیکن فساد نہیں ہوئے۔

پروفیسر مکھیا نے کہا: ‘ہم آج تاریخ کے اس مقام پر آ گئے ہیں کہ جہاں ہر سال انڈیا میں 500  سے زیاد فرقہ وارانہ فساد ہو رہے ہیں جبکہ پوری اٹھارویں صدی میں صرف پانچ ایسے فسادات کے شواہد ملتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے اس کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔’

انھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں تمام تر تاریخی شواہد کی بنیاد پر ‘پہلا فساد مغل بادشاہ اورنگزیب کی وفات کے بعد اٹھارویں صدی کی دوسری دہائی میں نظر آتا ہے اور وہ بھی مودی جی کے گجرات میں۔’

جاوید اختر کا ایک دوسرے پروگرام ‘کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا’ میں کہنا تھا کہ ‘اگر کسی سے عشق کرنے کے لیے کہیں تو کہا جائے گا کہ معاشرے کو بگاڑ رہا ہے۔’ ان کے اشارے کو لوگوں نے سمجھا اور داد دی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے لوگوں کی فرمائش پر اپنی ایک پرانی نظم ‘نیا حکم نامہ’ بھی سنائی۔

جبکہ پروگرام ‘منٹو کے روبرو’ میں اداکار نوازالدین صدیقی نے کہا کہ سماج میں سچ بولنے پر پابندی ہے جبکہ جھوٹ کا بول بالا ہے۔ اسی ضمن میں انھوں نے اپنی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سچ لکھا تو کتاب واپس لینی پڑی۔ یاد رہے کہ انھوں نے اپنی چند ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ان سے اپنے قریبی رشتے کا ذکر کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں اپنی خود نوشت ‘این اورڈینیری لائف’ واپس لینی پڑی تھی۔

جواب چھوڑیں