کانے

Asif Shahkar
34

کانے

سید آصف شاہکار

Columnحقوق اشاعت (copyright) صرف ہمارے پاس محفوظ ہیں۔اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔ ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ پھر کہیں گے “میں نے پھر الٹی بات کی ہے “۔
میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ میں الٹی بات کرتا ہوں،۔ میں شاید خود الٹی بات نہیں کرتا بلکہ مجھ سے زبردستی الٹی بات ہو جاتی ہے۔ کئی دانشوروں کے خیال مطابق اگرچہ الٹی بات انقلابی ہوتی ہے اور اس کو سقراط اور منصور کی سنت بھی کہا جاتا ہے لیکن ہم اکثر ہر نئی اور الٹی بات کہنے والے کو گالیاں دیتے ہیں، اسکو کافر، غدار اور گمراہ کہتے ہیں لیکن جب اس کی یہ الٹی بات سچی اور درست ثابت ہو جاتی ہے تو پھر ہم اسی شخص کو ولی، لیڈر، انسان دوست، محب الوطن اور فطین کہتے ہیں۔آج جو میں کہنے والا ہوں، اسکو بھی الٹی بات کہہ کر ناک چڑھایا جائیگا
آج پاکستان میں ” لوٹوں ” کا سب کو علم۔ وہ لوگ جن کی کوئی سیاسی آئیڈیا لوجی نہیں، سیاست ان کے لیے موقعہ پرستی اور کاروبار ہے یہ اقتدار کو اپنی دولت اور طاقت بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ہر با اقتدار پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں ، یہ اقتدار کی گدی پر بیٹھی پارٹی کی اقتدار پر گرفت مضبوط کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں یہ حکومتی پارٹی سے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوٹے وفاداری، محب الوطنی ، قوم پرستی ، انسان دوستی اور اخلاقیات نام کی کِسی چیز نہیں جانتے۔ جب تک ان کی پارٹی مضبوط ہوتی ہے یہ ساتھ ساتھ ناچ رہے ہوتے ہیں جب ان کو شک گزرتا ہے کہ پاکستان میں اقتدار الاٹ کرن والی اتھارٹی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اقتدار کی اگلی باری کسی اور پارٹی کی ہے تو یہ فورا اپنی موجودہ پارٹی چھوڑ کر اقتدار میں آنے والی ا گلی پارٹی میں دھوم دھام سے شامل ہوجاتے ہیں یہ لوٹے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ کچھ خاندان ہیں جن کا سیاست پر قبضہ ہے۔ ان خاندانوں میں سیاست ایک وراثت کی طرح ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی ہے۔ اصل میں اس وراثت یا جاگیر کی بنیاد انگریز بادشاہ نے اپنے راج میں رکھی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہندستان کے لوگوں کی جنگِ آزادی یا انگریزوں کے راج کے خلاف بغاوت میں اپنے لوگوں کے ساتھ غداری کی اور انگریز کا ساتھ دے کر اس جنگِ آزادی یا بغاوت کو کچلنے میں مدد کی ۔ اس کے بدلے میں انگریز نے ان کو لاکھوں ایکڑ زمین جاگیر کی شکل میں انعام دی۔ اس جاگیر کے کے علاوہ انگریز نے ان کو ایک اور بھی جاگیر عطا کی یہ سیاست تھی ۔ انگریز کے ہندوستان سے راج چھوڑ کر کوچ کر جانے کے بعد ہندستان میں تو یہ راجے مہاراجے نواب اور جاگیر دار ناپید ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ان کی سیاست بھی ختم ہو گئی لیکن مملکتِ خدا دادِ پاکستان میں انگریز کا قائم کیا نظام جوں کا توں رائج رہا۔ گورنر جنرل، کمانڈر انچیف، چیف جسٹس اور باقی سب ریاستی ستون سب انگریز کے تعینات کیے تھے۔ باقی ریاستی ڈھانچے میں یہ نواب اور جاگیر دار بھی جوں کے توں ہی رہے۔ اپنی سیاسی جاگیر کے زور پر یہ انگریز کی چھوڑی کرسیوں پر آ کر بیٹھ گئے اور پاکستان کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ ان نوابوں، نوابزادوں، جاگیرداروں، گدی نشینوں اور پیروں کی اولادیں آج تک نسل در نسل سیاست کے ذریعے اقتدار کی مالک ہیں۔ کوئی بھی پارٹی ہو کوئی بھی لیڈر ہو اقتدار میں یہی لوگ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی صرف باری کا فرق پڑتا ہے۔ کچھ با اقتدار پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں اور کچھ اپوزیشن میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ان کو اس انتظار سے کوئی لمبا چوڑا فرق نہیں پڑتا کیوںکہ اقتدار میں بیٹھے ان نوابوں، نوابزادوں، جاگیرداروں، گدی نشینوں اور پیروں کے ساتھ ان کی حصے داری اور رشتے داری ہوتی ہیں۔ لوگوں کے سامنے نورا کْشتی یا جعلی دنگل ہوتا ہے، ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی لیکن اندرون “سب اچھا”۔
ان لوٹوں کی ایک اعلٰی نسل کانے ہیں۔ کانے کے کئی لفظی مطلب ہیں۔ ایک آنکھ والا، داغی یا کانا پھل ۔ پنجابی میں کہا جاتا ہے ” فلاں بندہ فلاں کا کانا ہے ” یا پھر کوئی اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے کہتا اے ” میں کوئی کسی کا کانا ہوں” ۔یہ کانے ممکن ہے ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے بھی سیاست میں موجود ہوں لیکن میرے خیال میں یہ کانے بطور ایک انسٹی ٹیوٹ کے ایوب خان کے راج میں وجود میں آئے۔ ایوب خان نے پہلے پہل اپنی حکومت فوجی افسران کے زور پر چلانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا کیوںکہ یہ فوجی افسر اپنی کم تعلیم کی وجہ سے حکومتی معاملات سےنا واقف تھے۔ ہر مسئلے کا حل ڈنڈا نہیں ہوتا کہیں علم بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ میں اس کی مثال یوں دیتا ہوں کہ یہ فوجی افسر اگرچہ فوجی عدالتیں لگا کر بیٹھ گئے لیکن ان کو سول قانون کا قطعی علم نہیں تھا یہی حال باقی محکموں میں فوجیوں کا تھا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اگر ایوب خان نے سول افسرشاہی سے مدد لی تو ساتھ ہی اسنے یہ کانے بھرتی کیے۔ ان کانوں میں کچھ تو پرانے نواب، نوابز ادے، جاگیر دار، گدی نشین اور پیر تھے تو کچھ سماج کے ماہرین تھے۔ ان فوجی حاکموں کے بھرتی کیے کانوں کا جب جائزہ لیا جائے تو اس میں پاکستانی سیاست کے بڑے بڑے ستون شامل نظر آئیں گے ۔
جیسے پاکستان کی تاریخ میں ہر حاکم نے راج کرنے کے لئے میکا ولی کو اپنا پیغمبر مانا اسی طرح ایوب خان نے بھی جا کر میکا ولی کے دربار میں حاضری دی۔ میکا ولی کہتا ہے ایک کامیاب حاکم کو اپنے ارد گرد کرپٹ اور بد عنوان لوگ اکٹھے کرنے چاہئیے اسکے خیال کے مطابق یہ کرپٹ بےایمان اور بد عنوان لوگ کانے ہوتے ہیں اس لئے ان کو بلیک میل کرکے قابو کرنا آسان ہوتا ہے۔ یہ کرپٹ بے ایمان،ضمیر فروش اور بد عنوان افسر، قانون دان اور ریاستی معاملات کے ماہر، مذہبی رہنما ، سیاست دان کانے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں گاہے بگاہے اقتدار میں آئی سول حکومتوں نے جہاں پرانے کانے استعمال کیے تووہاں نئے کانے بھی بھرتی کئے تمام آمروں میں سے جِس نے سب سے زیادہ کانے بھرتی کیے میرے خیال میں یہ ضیاء الحق تھا ۔ اس کے بعد آج تک ان کی بھرتی جاری ہے۔ اقتدار کی باری الاٹ کرنے والی طاقت کے لئے یہ کانے گھڑے کی مچھلی ہیں۔ جب چاہا ان کوکان سے پکڑ کر جدھر مرضی چاہا چلا لیا ۔ یہ کانے نہ صرف اپنے پیدا کرنے والوں کے کانے ہیں بلکہ اس ملک کے لوگوں کے بھی کانے ہیں۔ کئی بار یوں بھی ہوا کہ ان کانوں نے خود کو واقعی لیڈر سمجھ کر اپنے پیدا کرنے والوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں ان کا کیا حشر ہوا یہ بات کسی سے ڈھکی چْھپی نہیں۔
یوں تو ان کانوں کے ہمیشہ وارے نیارے رہتے ہیں لیکن جب بھی اس ملک میں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو اقتدار کی باری لگانے والی طاقت کو ان کی ضرورت پڑتی ہے تو ان کے مزید وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ اقتدار کی باری لگانے والی طاقت اگرچہ ان کوکان سے پکڑ کر چلا لیتی ہے لیکن ان کو اس وفاداری کا انعام بھی ملتا ہے اور یہ کانے مزید امیر اور طاقتور ہونے کے ساتھ مزید کانے ہو جاتے ہیں۔
وقت کے گزر نے ساتھ یہ کانے ایک وبا یا چھوت کی بیماری کی طرح سارے سماج میں پھیل گئے ہیں اور سارا سماج ہی کانا ہو گیا ہے۔ ہر کوئی کانا ہے اور ہر کسی کا کانا ہے۔ اس کانے سماج میں ہر کوئی ہر وقت جنگ کر رہا ہے۔
ویسے تو انسان نے ساری تاریخ میں ہی جنگ کی کبھی لٹیروں پر حملہ آوروں کے خلاف۔ کبھی ہٹلر چنگیز خان، ہلاکو خان تمر لنگ جیسے انسان کْش پاگل جنگ بازوں کے خلاف اور کبھی آسمانی آفتوں کے خلاف۔ طوفان اور سیلاب آئے، پانی سب کچھ بہا کر لے گیا اس کی لپیٹ میں سب کچھ غائب ہو گیا انسان جانور گھر باہر۔ کبھی آگ لگی اور یہ آگ ہر چیز کو جلاتی ہوئی انسان کو شکار کرنے چل پڑی انسان جان بچانے کے لئے آگے آگے بھاگ رہا ہے اور آگ کے شعلے اسکا تعاقب کرتے آ رہے ہیں ۔ کبھی زلزلے آئے اور لاکھوں انسان سْسری کی طرح سو گئے ۔ سب کچھ اْلٹ پلٹ گیا ۔ آج کے انسان کے لئے سب سے بڑی آفت یہ کانا سماج ہے جس میں ہر کوئی اپنی بقا کی جنگ کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں