کرپٹ مافیا کیخلاف قوم کو میرا ساتھ دینا ہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان

Imran Khan
15

مانیٹئرنگ ڈیسک (24 گھنٹے)

Prime Minister

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے مشکل مالی حالات نہیں تھے ،ہمیں قرضوں پر سود ادا کرنے کےلئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے۔

پاکستان کے 22ویں وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے اپنے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو 22 سال سے میرے ساتھ ہیں،انہوں نے تانگہ پارٹی کا طعنہ بھی سنا،بڑے مشکل وقت میں میرے ساتھ چلنے والوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان دو مقاصد کےلئے سیاست کرتا ہے ایک بطور کیرئیر اور دوسرے میرے آئیڈیل قائداعظم محمد علی جناح، میں نے سیاست کو کبھی بھی کیرئیر نہیں سمجھا۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں اس لئے آیا کہ پاکستان کو ویسا ملک بنائیں جیسا اسے ہونا چاہیے،قائد اعظم اوراقبال کا پاکستان چاہتا ہوں،پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو قرضہ 60ارب روپے تھا،روپے پر سارا دبائو بیرونی قرضوں کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہناتھاکہ ایک طرف قوم مقروض ہے ،دوسری طرف صاحب اقتدار کا طرز زندگی انگریز دور جیسا ہے ،ڈی سی ،کمشنر، گورنر بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں،اگر ملک اسی طرح چلتا رہا تو قوم ترقی نہیں کرےگا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس1100 کینال پر محیط ہے، اس کے سالانہ اخراجات کروڑوں روپے کے ہیں،وزیراعظم کی  80 گاڑیاں اور 33 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں،وہاں 524 ملازم ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنے بچوں پر خرچ کرنے کیلئے ملک میں پیسا نہیں،ہم ان 5 ممالک میں سے ہیں جہاں خوراک نہ ملنے پر عورتوں کی صحت متاثر ہوتی ہے،جہاں گندا پانی پینے سے بچوں کی اموات ہوتی ہے،کم غذایت کی وجہ سے بچے شدید بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں،وہ صحت مند بچوں کو مقابلہ نہیں کرپاتے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہاں لوگ اقتدار میں آتے ہی پیسا بنانے کیلئے ہیں،سابقہ حکومتوں نے قرضہ لے کر کہاں خرچ کیا قوم کو بتائوں گا،میں نے ساری زندگی میں ایک چیز سیکھی ہے مقابلہ کرنا،میں 2 ملازم اور 2گاڑیاں رکھوں گا۔

انہوں نے مدینہ کی ریاست کےلئے خلفا راشدین کی زندگی سے کئی مثالیں دی اور کہا کہ یہ اصول مغرب نے اپنالئے ہیں،صاحب اقتدار کرپشن کرتا ہے تو ادارے تباہ ہوتے ہیں،کوئی بھی ملک اتنی کرپشن برداشت نہیں کر سکتا،کرپشن کے خاتمے کیلئے پورا زور لگانا ہے،آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں۔

عمران خان نے کہا کہ بیرونی ملک مقیم پاکستانوں کیلئے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں گے،ہمیں اس وقت ڈالر کی ضرورت ہے، اوورسیز پاکستانی اپنا پیسا پاکستان کی بینکوں میں رکھوائیں، بیرونی ملک پاکستانیوں کیلئے پیسے ملک بھیجنے میں آسانیاں پیدا کریںگے،بیرون ملک کام کرنے والے ملک کا اثاثہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باہر پیسا رکھنے والا سیاستدان باہر سے کنٹرول بھی ہوسکتا ہے ،میں پوچھتا ہوں وہ کیسا لیڈر ہے جو اپنی دولت باہر رکھتا ہےاور پاکستان میں سیاست میں کرتا ہے،کبھی کسی پارٹی کو ووٹ نہ دیں جس کا سارا پیسا اس ملک میں نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے جبکہ ساتھ ہی ملکی برآمدات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے خاص طور پر مخاطب ہوتے ہوئے اپیل کی کہ وہ اپنا پیسہ پاکستان واپس لائیں، اپنا پیسہ پاکستان میں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان پر مشکل وقت ہے، جو بھی پیسہ پاکستان بھیجتے ہیں بینکوں کے ذریعے بھیجیں، ملک کو مشکل سے نکالنے کے لیے ہمیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے وہ ایک قانون سازی کریں گے جسے ‘وسل بلوؤر ایکٹ’ کا نام دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت سرکاری محکموں میں جو بھی شخص کرپشن کی نشاندہی کرے گا اس کے نتیجے میں کرپشن کرنے والے شخص سے برآمد ہونے والی رقم کا 20 فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل اور پولیس کا نظام بھی درست کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ مشاورت کریں گے اور کوشش کی جائے گی کہ کوئی بھی کیس ایک سال سے زائد نہ چلے۔

انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ کئی بیوہ خواتین کے کیسز کافی عرصے سے عدالت میں زیر التواء ہیں،انہیں جلد از جلد نمٹایا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل اور پولیس کا نظام بھی درست کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ سابق آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ناصر درانی کی خدمات حاصل کی جائیں گی، انہیں پنجاب حکومت کی کابینہ میں بطور مشیر شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ناصر درانی کو پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنے کا ٹاسک دیا جائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ سندھ میں چونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پولیس صوبائی حکومت کا معاملہ ہے لہٰذا وہاں براہ راست مداخلت نہیں کرسکتے لیکن سندھ پولیس کو بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں ہنگامی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے، 2 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں انہیں تعلیم دینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ زور سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے لگانا ہے تاکہ غریبوں اور امیروں کو یکساں تعلیم مل سکے۔

عمران خان نے کہا کہ ساتھ ہی مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کو نظر انداز نہیں کرنا، میں چاہتا ہوں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچے بھی آگے چل کر ڈاکٹر، انجینئر بنیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنے سرکاری اسپتالوں کا نظام ٹھیک کرنا ہے، جن دو صوبوں میں ہماری حکومت ہے وہاں خود اور سندھ حکومت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ اپنا نظام درست کریں۔

انہوں نے اپنے خطاب کے دوران پورے ملک کے غریب گھرانوں کے لیے ہیلتھ کارڈ کا بھی اعلان کیا۔

جواب چھوڑیں